سرکاری ملازمین کیلئے بڑی پابندیاں، سوشل میڈیا، سیاست، تحائف اور اضافی آمدن کے دروازے بند،نئے رولز نافذ

سرکاری ملازمین کیلئے بڑی پابندیاں، سوشل میڈیا، سیاست، تحائف اور اضافی آمدن کے دروازے بند،نئے رولز نافذ

وفاقی حکومت نے سول سرونٹس رولز 2026 نافذ کر دیے ہیں جن کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے مفادات کے ٹکراؤ، اثاثوں کی تفصیلات، سوشل میڈیا کے استعمال، تحائف، اضافی ملازمت اور سیاسی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ نئے قواعد کا اطلاق فوری طور پر ملک بھر اور بیرونِ ملک تعینات تمام سول سرونٹس پر ہوگا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قواعد وزیرِاعظم کی منظوری سے تحت مرتب کیے گئے ہیں۔ ان قواعد کا بنیادی مقصد سرکاری نظام میں شفافیت، احتساب اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانا ہے۔

نئے ضوابط کے تحت ہر سرکاری ملازم اپنے اور اپنے اہل خانہ کے مالی مفادات کو سرکاری ذمہ داریوں سے متصادم ہونے سے بچانے کا پابند ہوگا۔ کسی بھی ممکنہ مفاد کے ٹکراؤ کی صورت میں متعلقہ افسر کو خود کو فیصلے کے عمل سے الگ کرنا ہوگا۔

اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا تمام سرکاری ملازمین کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو سالانہ بنیادوں پر اپنے اثاثے ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے ظاہر کرنا ہوں گے۔ ان اثاثوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی اور بعض معلومات عوام کے لیے بھی جاری کی جا سکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ پالیسیوں پر تنقید، پوپ لیو عالمی توجہ کا مرکز بن گئے،مقبولیت بڑھنے لگی

تحائف اور مراعات کے حوالے سے بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ ایسے تحائف قبول نہیں کر سکیں گے جو ان کے سرکاری فرائض پر اثرانداز ہوں۔ اسی طرح غیر ملکی اعزازات یا خطابات حاصل کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے پیشگی اجازت لینا لازمی ہوگا۔

سوشل میڈیا کے استعمال پر بھی واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں سرکاری ملازمین بغیر اجازت کسی ویب سائٹ، بلاگ، وی لاگ یا میڈیا پلیٹ فارم کا حصہ نہیں بن سکیں گے، جبکہ ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی سرکاری معلومات یا امور کے اظہار پر پابندی ہوگی۔ سرکاری اور ذاتی اکاؤنٹس کو الگ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے اور کیڈر ایڈمنسٹریٹر کسی بھی وقت ملازمین سے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کر سکتا ہے۔

نئے قواعد کے تحت سرکاری ملازمین کو سیاست میں حصہ لینے کسی سیاسی سرگرمی کی حمایت کرنے یا سرکاری پالیسیوں کے خلاف عوامی سطح پر اظہارِ خیال کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ مزید برآں دورانِ ملازمت کسی نجی ادارے، کمپنی، بینک، ٹرسٹ یا غیر منافع بخش تنظیم میں ملازمت اختیار کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، سوائے مخصوص شرائط کے تحت۔

قواعد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم کسی غیر ملکی حکومت کے ساتھ ملازمت یا وابستگی اختیار نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنی سرکاری حیثیت یا اثر و رسوخ کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر سکے گا۔

حکومت نے ان نئے قواعد کے نفاذ کے ساتھ 1964 کے سابقہ کنڈکٹ رولز کو ختم کر دیا ہے تاہم ان کے تحت کیے گئے اقدامات برقرار رہیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ اصلاحات سرکاری نظام میں شفافیت اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *