آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ایران کیلئے نقصان دہ یا فائدہ مند؟ حیران کن انکشاف

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ایران کیلئے نقصان دہ یا فائدہ مند؟ حیران کن انکشاف

آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورتحال کے درمیان ایک حیران کن معاشی تصویر سامنے آئی ہے، جس میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ آیا اس ناکہ بندی سے ایران کو نقصان ہوا یا فائدہ۔

بظاہر پابندیوں اور بحری رکاوٹوں کا مقصد ایران کی معیشت کو کمزور کرنا تھامگر حالیہ اعداد و شمار اس کے برعکس کہانی سنا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول مضبوط کر لیا، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔

عام حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے اس لیے اس کی بندش نے عالمی منڈی میں قیمتوں کو تیزی سے اوپر دھکیل دیا۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران کا بڑا اعلان، دوست ممالک کے لیے آبنائے ہرمز پر ٹرانزٹ فیس ختم کردی

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے اس دوران اپنی تیل برآمدات مکمل طور پر بند نہیں کیں بلکہ متبادل طریقوں اور مخصوص راستوں کے ذریعے سپلائی جاری رکھی۔

اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں ایران نے یومیہ 1.84 ملین بیرل جبکہ اپریل میں 1.71 ملین بیرل خام تیل برآمد کیا جو 2025 کے اوسط سے زیادہ ہے۔

اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے نے ایران کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کر دیا۔ صرف ایک ماہ میں ایران نے

تقریباً 55 ملین بیرل تیل برآمد کر کے اندازاً 4.97 ارب ڈالر کمائے

 یہ بھی پڑھیں :ایران نے آبنائے ہرمز میں قبضے میں لیے گئے بحری جہازوں کی ویڈیو جاری کر دی

جبکہ جنگ سے قبل یہی آمدنی تقریباً 3.45 ارب ڈالر ماہانہ تھی۔ یعنی ایران نے اس بحران کے دوران تقریباً 40 فیصد زیادہ کمائی کی۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی کا مقصد ایران کی اسی آمدنی کو روکنا ہے کیونکہ تیل کی برآمدات ایرانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔

تاہم موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے نے وقتی طور پر ایران کو مالی فائدہ پہنچایا ہےاگرچہ طویل مدت میں یہ صورتحال غیر یقینی اور خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

editor

Related Articles