آبنائے ہرمز کی کشیدہ صورتحال کے درمیان ایک حیران کن معاشی تصویر سامنے آئی ہے، جس میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ آیا اس ناکہ بندی سے ایران کو نقصان ہوا یا فائدہ۔
بظاہر پابندیوں اور بحری رکاوٹوں کا مقصد ایران کی معیشت کو کمزور کرنا تھامگر حالیہ اعداد و شمار اس کے برعکس کہانی سنا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول مضبوط کر لیا، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔
عام حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے اس لیے اس کی بندش نے عالمی منڈی میں قیمتوں کو تیزی سے اوپر دھکیل دیا۔
جبکہ جنگ سے قبل یہی آمدنی تقریباً 3.45 ارب ڈالر ماہانہ تھی۔ یعنی ایران نے اس بحران کے دوران تقریباً 40 فیصد زیادہ کمائی کی۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی کا مقصد ایران کی اسی آمدنی کو روکنا ہے کیونکہ تیل کی برآمدات ایرانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔
تاہم موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے نے وقتی طور پر ایران کو مالی فائدہ پہنچایا ہےاگرچہ طویل مدت میں یہ صورتحال غیر یقینی اور خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔