امریکا نے ایران کی تیل کی آمدنی کو محدود کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے چین سے وابستہ آئل ریفائنری، درجنوں شپنگ کمپنیوں اور آئل ٹینکرز پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں
جس سے عالمی توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی تعلقات میں ہلچل مچ گئی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے
اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندیاں ایران کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والے اداروں کے خلاف وسیع تر مہم کا حصہ ہیں۔
حکام کے مطابق تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور متعدد آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ چین میں قائم ایک بڑی آئل ریفائنری بھی پابندیوں کی زد میں آئی ہے۔
اس کارروائی کا مقصد ایران کی سب سے بڑی آمدنی یعنی تیل کی برآمدات، کو کم کرنا اور اس پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے۔