ایران پر معاشی دبائو ، امریکہ نے آئل ریفائنری ، درجنوں شپنگ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

ایران پر معاشی دبائو ، امریکہ نے آئل ریفائنری ، درجنوں شپنگ کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

امریکا نے ایران کی تیل کی آمدنی کو محدود کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے چین سے وابستہ آئل ریفائنری، درجنوں شپنگ کمپنیوں اور آئل ٹینکرز پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں

جس سے عالمی توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی تعلقات میں ہلچل مچ گئی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے

اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندیاں ایران کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والے اداروں کے خلاف وسیع تر مہم کا حصہ ہیں۔

حکام کے مطابق تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور متعدد آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ چین میں قائم ایک بڑی آئل ریفائنری بھی پابندیوں کی زد میں آئی ہے۔

اس کارروائی کا مقصد ایران کی سب سے بڑی آمدنی یعنی تیل کی برآمدات، کو کم کرنا اور اس پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکا کا بڑا فیصلہ، ایران کے تیل پر سے 30 دن کے لیے پابندیاں اٹھالیں

امریکی حکام نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ تعاون کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں پر بھی ثانوی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں

اور حالیہ اقدام اسی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ صدر ٹرمپ اور چین کے صدر شی جنپنگ کے درمیان بیجنگ میں ایک اہم ملاقات متوقع ہے

جس میں تجارتی اور جغرافیائی سیاسی امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :جوہری معاہدے سے قبل امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، کشیدگی میں اضافہ

دوسری جانب آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے ہی عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے اور حالیہ اقدامات سے

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

editor

Related Articles