امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب روایتی مالی نظام سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل کرنسی کے میدان تک پہنچ گئی ہے
امریکی حکومت نے ایران سے منسلک کروڑوں ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کر دی ہے۔ اس اقدام کو تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی ایک نئی اور اہم حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایران سے مبینہ طور پر جڑی مختلف کرپٹو والیٹس میں موجود اً 344 ملین ڈالر (34 کروڑ 40 لاکھ ڈالر) کی ڈیجیٹل رقوم کو منجمد کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی مالیاتی سرگرمیوں، بین الاقوامی ٹرانزیکشنز اور فنڈز کی منتقلی کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ڈیجیٹل اثاثوں کی بڑھتی اہمیت، پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا نیا نظام متعارف
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس حوالے سے کہا کہ واشنگٹن حکومت ایران کے ایسے تمام مالی نیٹ ورکس کو نشانہ بنا رہی ہے جو عالمی سطح پر رقوم منتقل کرنے یا اپنی معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ان تمام ذرائع کی نگرانی کر رہا ہے جن کے ذریعے تہران اپنے مالی وسائل بیرون ملک منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان تمام چینلز کو مرحلہ وار بند کیا جا رہا ہے۔
اقدام کا مقصد ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھانا اور اس کی بین الاقوامی مالی رسائی کو محدود کرنا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صرف ایک وقتی اقدام نہیں بلکہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے
یہ بھی پڑھیں :کرپٹو مارکیٹ میں بھونچال، بٹ کوائن 7 ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور سفارتی کوششیں کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف ایران کی معیشت پر اثر انداز ہوں گے بلکہ عالمی کرپٹو مارکیٹ اور مالیاتی نظام میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔

