خالصتان حامی حلقوں کی جانب سے بھارت کے خلاف سخت بیانات نےین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے
سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارت اور اس کی موجودہ حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت میں سکھ برادری کو دہائیوں سے مشکلات اور مبینہ امتیازی سلوک کا سامنا ہے، جس پر عالمی برادری کو توجہ دینی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں :امریکا؛ بھارتی حکومت کا بیرون ملک سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بے نقاب
بھارت میں مختلف ادوار میں سکھوں کے حقوق متاثر ہوئے جبکہ موجودہ حکومت کے تحت حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ پنوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان کا
حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے بارے میں سخت الفاظ بے بنیاد نہیں بلکہ زمینی حقائق کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :بھارت کے لیے سفارتی محاذ پر بڑا دھچکا، صدر ٹرمپ کا خالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو خط
انہوں نے کہا کہ خالصتان کے حامی سکھ ایک عالمی ریفرنڈم مہم چلا رہے ہیں جس کا مقصد پنجاب کے مستقبل سے متعلق رائے حاصل کرنا ہے۔
پنوں نے کہا کہ یہ مہم مختلف ممالک میں جاری ہے اور اسے بین الاقوامی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔

