نیتن یاہو نے پہلی بار کینسر میں مبتلا ہونے کی تصدیق کر دی،ریڈی ایشن ہوگئی،دو ماہ بعد رپورٹ منظر عام پر آگئی

نیتن یاہو نے پہلی بار کینسر میں مبتلا ہونے کی تصدیق کر دی،ریڈی ایشن ہوگئی،دو ماہ بعد رپورٹ منظر عام پر آگئی

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پہلی بار باضابطہ طور پر انکشاف کیا ہے کہ وہ کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا رہے ہیں جس کے بعد ان کی صحت سے متعلق عالمی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کو رپوسٹیٹ کینسر کی چند ماہ قبل  تشخیص معمول کے طبی معائنے کے دوران ہوئی جو ابتدائی مرحلے میں تھا۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس بیماری کی موجودگی کو کچھ عرصے تک ظاہر نہیں کیا گیا اور تقریباً دو ماہ بعد اس حوالے سے باضابطہ میڈیکل رپورٹ جاری کی گئی۔

میڈیا ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے ابتدائی مرحلے میں ہی بیماری کی نشاندہی کر لی تھی جس کے بعد فوری طور پر علاج شروع کیا گیا۔ بنیامین نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کا علاج کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے اور انہوں نے ریڈی ایشن تھراپی کا کورس مکمل کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کہاں ہیں؟صحت سے متعلق تشویشناک رپورٹ ،نئے انکشافات

انہوں نے مزید بتایا کہ بروقت تشخیص اور جدید طبی سہولیات کی بدولت بیماری پر قابو پا لیا گیا ہے اور وہ اب خود کو بہتر محسوس کر رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو کی جانب سے اس بیماری کو فوری طور پر منظر عام پر نہ لانے کی ایک وجہ حساس سیکیورٹی صورتحال اور جاری علاقائی کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے تاکہ اس خبر کو کسی قسم کے سیاسی یا سفارتی دباؤ کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق پروسٹیٹ کینسر اگر ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے تو اس کا علاج نسبتاً مؤثر طریقے سے ممکن ہوتا ہے اور ریڈی ایشن تھراپی اس سلسلے میں ایک اہم اور کامیاب طریقہ علاج سمجھا جاتا ہے۔

editor

Related Articles