مقبوضہ کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں ہیلی کاپٹر کے حادثے نے سرکاری بیانات اور مقامی رپورٹس کے درمیان تضاد کو جنم دیا ہے، کیونکہ بھارتی فوج اپنی ہٹ دھرمی کی روایت جاری رکھتے ہوئے سچ چھپانے میں کوشش میں مصروف ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں ہیلی کاپٹر حادثے میں اندرونی عوامل کارفرما نظر آ رہے لیکن بھارت اپنی فضائیہ کی ناکامی چھپانے کیلئے حقیقت سے انکاری ہے اور اس بات پر بضد ہے کہ اس طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بھارتی فورسز اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ نظر آتی ہے ۔
حکام نے تصدیق کی کہ علاقائی شہری ہوا بازی کے پروگرام کے تحت کام کرنے والا ایک سویلین ہیلی کاپٹر 24 اپریل کو کشتواڑ کے پہاڑی علاقے میں گر گیاتاہم انہوں نے ابھی تک حادثے کی کوئی حتمی وجہ جاری نہیں کی ہے۔
اس وقت تک کشتواڑ ہیلی کاپٹر حادثے کی جانچ پڑتال جاری ہے تاہم سرکاری تردید اور مقامی افراد واقعہ کے متضاد بیانات پیش کر رہے ہیں۔
دریں اثنا کچھ مقامی صحافیوں اور رہائشیوں نے جہاز پر میزائل سے نشانہ بنانے کی بھی اطلاع دی لیکن اس اطلاع کو سرکاری چینلز کے زریعے دبانے کی کوشش کی گئی جیسا کہ بھارت ہمیشہ سچ کو دبانے اور حقیقت پر ہمیشہ پردہ ڈالتا ہے ، بھارت کا ’’فیکٹیسائڈ‘‘ بیانیہ اور سچ چھپانے کی کوشش ہمیشہ کی طرح آج بھی جاری ہے ۔
واقعے کے فوراً بعد بھارتی فضائیہ اور بھارتی فوج نے حادثے میں کسی بھی قسم کے بیان دینے سے انکار کیا ، انہوں نے کہا کہ ان کا آپریشنل نظام اس وقت سویلین ہیلی کاپٹر سے منسلک کسی سرگرمی میں مصروف نہیں تھا تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات میں ابتدائی طور پر معلومات کو محدود یا کنٹرول کرنے کی کوششیں دیکھی گئی ہیں۔
غیر مصدقہ رپورٹس میں یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ ممکنہ طور پر “فرینڈلی فائر” (اپنی ہی فورسز کی فائرنگ) کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی یا آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اس مرحلے پر حکام نے ریڈار ڈیٹا، فلائٹ ریکارڈ کا تجزیہ، یا ملبے کے امتحان کے نتائج جاری نہیں کیے ہیں، نتیجتا حادثے کی وجہ غیر تصدیق شدہ ہے بلکہ بھارتی فوج اپنی ناکامی اور سچ بتانے سے گریز کررہی ہے ۔
2019 سے اب تک ہندوستانی فوج کے بے شمار اس طرح کے واقعات سامنے آچکے ہیں جو بھارتی فوج کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔