وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے ’’معرکۂ حق‘‘ میں دشمن کو بھرپور جواب دے کر اپنی عسکری اور سفارتی طاقت کا مؤثر مظاہرہ کیا اور پوری قوم اپنے وقار اور عزت پر کسی قسم کا سمجھوتا کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل کاکول میں پیش آنے والے پہلگام واقعہ پر پاکستان نے ابتدا ہی سے واضح، دوٹوک اور ذمہ دارانہ مؤقف اپنایا جو بعد ازاں سفارتی سطح پر ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ ان کے مطابق پاکستان نے نہ صرف اس واقعے کی مذمت کی بلکہ متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ شہباز شریف نے اپنے خطاب میں اس واقعے کو ایک سانحہ قرار دیتے ہوئے الزام تراشی کی سیاست ختم کرنے اور شفاف، غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی، جسے عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا گیا، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اس مؤقف کے بعد بھارت سفارتی محاذ پر دباؤ کا شکار ہوا اور کئی ممالک نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف دہشت گردی کے واقعات پر افسوس کا اظہار نہیں کرتا بلکہ مختلف شدت پسند گروہوں کی پشت پناہی بھی کرتا ہے، جن میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے عناصر شامل ہیں۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط قلعہ ہے اور اس جنگ میں بے شمار قربانیاں دے چکا ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ افواج پاکستان کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عسکری قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل کی زیرِ قیادت، افواج نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں ملک کا دفاع کیا اور دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا، پوری پاکستانی قوم دفاعِ وطن کے لیے متحد ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف ایک مضبوط اور سچائی پر مبنی بیانیے کے طور پر سامنے آیا ہے۔