وفاقی حکومت نے علاقائی تجارت اور رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ’ٹرانزٹ آف گڈز آرڈر 2026‘ فوری طور پر نافذ کر دیا ہے۔
وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفیکیشن کے مطابق اب تیسرے ممالک سے ایران جانے والا تجارتی سامان پاکستان کے راستے گزر سکے گا۔ اس مقصد کے لیے کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سمیت تفتان کے زمینی راستے کو ٹرانزٹ روٹس کے طور پر مختص کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق گوادر بندرگاہ کو اب ایران کے لیے ایک اہم تجارتی گیٹ وے کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے، جہاں سے کارگو کی ترسیل مخصوص کوریڈورز کے ذریعے کی جائے گی۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو کے قوانین کے تحت تمام ٹرانزٹ کارگو کے لیے کسٹمز کا جامع طریقہ کار لاگو ہوگا اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی سے بچنے کے لیے مالی گارنٹی کی فراہمی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
وزارتِ تجارت کے حکام کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف پاکستان کو ٹرانزٹ فیس کی مد میں زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کی اہمیت میں بھی عالمی سطح پر اضافہ ہوگا۔
پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے رابطوں کے بعد یہ فیصلہ ایک اسٹریٹجک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ واضح رہے کہ پاکستان اپنی جیو اکنامک پوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس سے قبل ایران تک سامان کی ترسیل کے لیے پاکستان کے راستے اس قدر واضح اور قانونی ڈھانچہ موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے تجارت سست روی کا شکار تھی۔ اب گوادر بندرگاہ کو ایران کے لیے فعال کرنے سے نہ صرف ’سی پیک’ کے تحت بننے والے ڈھانچے کا فائدہ اٹھایا جا سکے گا بلکہ یہ ایران پر لگی بین الاقوامی تجارتی رکاوٹوں کے متبادل کے طور پر ایک سستا اور مختصر ترین راستہ بھی فراہم کرے گا۔
یاد رہے کہ اس اقدام سے خطے میں پاکستان کا معاشی اثر و رسوخ بڑھے گا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔