خیبر پختونخوا پولیس کی سہ ماہی رپورٹ جاری، فتنہ الخوارج کے  85 دہشتگرد ہلاک، 475 مقدمات درج،107 گرفتار

خیبر پختونخوا پولیس کی سہ ماہی رپورٹ جاری، فتنہ الخوارج کے  85 دہشتگرد ہلاک، 475 مقدمات درج،107 گرفتار

خیبر پختونخوا پولیس نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ 2026) کے دوران دہشتگردی کے واقعات اور سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صوبے کے 14 حساس اضلاع میں دہشتگردی کے مجموعی طور پر 475 مقدمات درج کیے گئے، جن میں 1427 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، فتنہ الخوارج کے 2 انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

سی پی او خیبر پختونخوا کے مطابق مختلف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران فتنہ الخوارج کے 85 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ 107 کو گرفتار کر لیا گیا۔

رپورٹ میں جانی نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امن کی خاطر پولیس کے 71 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا اور 68 زخمی ہوئے، جبکہ ایف سی کے 27 اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے 21 اہلکار شہید ہوئے۔

دہشت گردی کے ان بزدلانہ واقعات میں 67 شہری بھی جاں بحق اور 298 زخمی ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق ضلع بنوں 92 واقعات کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ شمالی وزیرستان میں 88 اور ڈی آئی خان میں 65 واقعات رپورٹ ہوئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 1235 افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کر کے ان کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور صوبے میں امن و امان کی بحالی تک آپریشنز جاری رہیں گے۔

خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں گزشتہ چند برسوں سے بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج دہشتگردی کی لہر میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

کالعدم تنظیموں کی جانب سے دوبارہ منظم ہونے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے اپنے آپریشنز کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ بنوں اور شمالی وزیرستان جیسے اضلاع میں بڑھتے ہوئے واقعات کی بڑی وجہ سرحد پار سے ہونے والی دراندازی اور مقامی سطح پر سہولت کاروں کی موجودگی بتائی جاتی ہے۔

پولیس کی حالیہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ریاست اب محض جوابی کارروائی کے بجائے ’پری ایمپٹیو اسٹرائیکس‘ (پیشگی حملوں) اور مشتبہ افراد کی کڑی نگرانی (فورتھ شیڈول) پر توجہ دے رہی ہے۔

واضح رہے کہ پولیس کے جانی نقصانات میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ فرنٹ لائن پر لڑ رہے ہیں، تاہم دہشت گردوں کی ہلاکتوں کی بڑی تعداد سیکیورٹی اداروں کی بہتر حکمتِ عملی کو ظاہر کرتی ہے۔

Related Articles