عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں آج ہونے والے نمایاں اضافے نے دنیا بھر کی معیشتوں کو ایک بار پھر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جہاں توانائی کی بڑھتی لاگت نئے معاشی دباؤ کا اشارہ دے رہی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد برینٹ خام تیل 55. 107ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا جبکہ امریکی خام تیل بھی42 .96 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔
اچانک اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران و امریکا کے درمیان مذاکرات میں تعطل ہے جس کے باعث تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ خاص طور پر اہم بحری راستوں میں غیر یقینی صورتحال نے عالمی سپلائی چین پر منفی اثرات ڈالے ہیں جس سے مارکیٹ میں بے چینی پیدا ہوئی اور قیمتیں اوپر چلی گئیں۔
یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر مہنگائی کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔ ترقی پذیر ممالک خصوصاً وہ جو توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب مختلف حکومتیں اس صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور عوام کو ممکنہ ریلیف دینے کے لیے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ عالمی کشیدگی میں کمی نہ آئی تو تیل کی قیمتوں کا یہ بڑھتا ہوا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی معیشت کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف توانائی کے شعبے بلکہ روزمرہ زندگی پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔