ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کی خبروں نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید ہلچل مچا دی
تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال کے باعث محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ابتدائی ایشیائی تجارتی سیشن کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 7 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد قیمت 97 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔
اسی طرح امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت میں بھی 6.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گر گئیں،فی ڈالر کتنی کمی ہوئی؟
یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں معمولی سی کشیدگی بھی عالمی معیشت پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی
بحری جہازوں سے متعلق واقعات اور سکیورٹی الرٹس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔سرمایہ کاروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ غیر یقینی صورتحال ہے
جہاں متضاد اطلاعات اور تیزی سے بدلتی صورتحال مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن رہی ہے
دوسری جانب عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتی کوششیں اس کشیدگی کو کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں
کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں اس کے اثرات عالمی معیشت پر دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔

