دنیا کے امیر ترین اور معاشی طور پر مستحکم ممالک کی نئی عالمی درجہ بندی سامنے آگئی ہے، جس نے عالمی معیشت کے بدلتے ہوئے رجحانات کو واضح کر دیا ہے۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق، ناروے نے اپنے مضبوط سوورن ویلتھ فنڈ، تیل کی وافر دولت اور بہترین حکومتی نظام کی بدولت دنیا کے امیر ترین ملک کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ ناروے کا فی کس معیارِ زندگی اور معاشی استحکام اسے باقی دنیا سے ممتاز کرتا ہے۔
اس فہرست میں آئرلینڈ دوسرے نمبر پر ہے، جس کی کامیابی کا سہرا فارماسیوٹیکل اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بڑی سرمایہ کاری کے سر ہے۔
لکسمبرگ، جو کہ ایک عالمی مالیاتی مرکز ہے، اپنی بلند ترین فی کس آمدنی کی وجہ سے تیسرے نمبر پر برقرار ہے۔ مضبوط بینکنگ سیکٹر کے لیے مشہور سوئٹزرلینڈ چوتھے اور قابلِ تجدید توانائی پر انحصار کرنے والا آئس لینڈ پانچویں نمبر پر رہا ہے۔
ایشیا کا اہم تجارتی مرکز سنگاپور چھٹے، ڈنمارک ساتویں، نیدرلینڈز آٹھویں، بیلجیم نویں اور سویڈن جدید صنعت و فلاحی نظام کی بدولت دسویں نمبر پر براجمان ہے۔ یہ درجہ بندی محض دولت نہیں بلکہ کسی ملک کے حکومتی ڈھانچے اور شہریوں کے معیارِ زندگی کی حقیقی عکاسی کرتی ہے۔
دنیا کے امیر ترین ممالک کا تعین عموماً فی کس خام ملکی پیداواراور قوتِ خرید کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ عالمی معیشت میں نارڈک ممالک (ناروے، آئس لینڈ، سویڈن) کا غلبہ ان کے بہترین سماجی و معاشی ماڈل کی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماضی میں قطر اور لکسمبرگ اس فہرست میں سب سے آگے رہتے تھے، لیکن ناروے کی جانب سے اپنے تیل کے ذخائر کو مستقبل کے لیے ایک بڑے فنڈ کی صورت میں محفوظ کرنا اب اسے دنیا کا معاشی طور پر محفوظ ترین ملک بنا چکا ہے۔
واضح رہے کہ آئرلینڈ کی دوسری پوزیشن اس بات کی دلیل ہے کہ ٹیک سیکٹر اب کسی بھی ملک کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس فہرست کا اجرا ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا بھر میں مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کی لہر موجود ہے، لیکن یہ 10 ممالک اپنے مضبوط ڈھانچے کی بدولت ان اثرات سے محفوظ رہنے میں کامیاب رہے ہیں۔