دنیا بھر میں میموری کی قلت نے ٹیک کمپنیوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث اسمارٹ فونز کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں جس سے صارفین کی خریداری بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
حالیہ میڈیارپورٹس کے مطابق کئی اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیاں اب مہنگے پریمیم کیمرا سینسرز سے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگے اور درمیانے درجے کے سینسرز کے درمیان تصویر کے معیار کا فرق اب اتنا زیادہ نہیں رہا کہ اضافی لاگت کو جواز دیا جا سکے۔
اسی لیے کمپنیاں اب حکمت عملی بدل رہی ہیں۔ مہنگے کیمرا ہارڈویئر پر خرچ کم کیا جا رہا ہے اور توجہ سافٹ ویئر پر دی جا رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ بہتر امیج پروسیسنگ کے ذریعے سستے سینسرز سے بھی اچھی تصاویر حاصل کی جا سکیں۔
ماہرین کے مطابق کمپنیاں اب انجینئرز کی خدمات حاصل کر رہی ہیں تاکہ امیجنگ الگورتھمز کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس طرح نان فلیگ شپ کیمرا بھی پریمیم جیسے نتائج دے سکیں گے۔
اگرچہ مہنگے سینسرز اب بھی کچھ اہم برتری رکھتے ہیں جیسے بڑا سائز اور بہتر لو لائٹ پرفارمنس لیکن بڑھتی ہوئی لاگت نے کمپنیوں کو نئی ترجیحات سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
دوسری طرف اسمارٹ فون بنانے کی لاگت میں سب سے بڑا حصہ ڈائنامک رینڈم ایکسس میموری یعنی( ڈی آراے ایم) اور اسٹوریج کا ہے۔ نینڈ فلیش میموری فلیش (این اے این ڈی )کی قیمتوں میں اضافے نے بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ٹیک لیکس کے مطابق جدید (ایل پی ڈی ڈی آر 6) ریم اور (یو ایف ایس 5.0)اسٹوریج کا مجموعی خرچ بعض اوقات ایک فلیگ شپ پروسیسر، جیسے اسنیپ ڈریگن 8 ایلیٹ جنریشن 6 پرو سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے جس کی قیمت خود 300 ڈالر سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
اسی وجہ سے سام سنگ اور گوگل جیسی کمپنیاں ایک ہی کیمرا سینسر کو کئی ماڈلز میں استعمال کر رہی ہیں، جبکہ اصل بہتری سافٹ ویئر کے ذریعے لائی جا رہی ہے۔