مریخ پر شہر بساؤ، تب ہی اربوں کے شیئرز پاؤ، سپیس ایکس کا نیا چیلنج

مریخ پر شہر بساؤ، تب ہی اربوں کے شیئرز پاؤ،  سپیس ایکس کا نیا چیلنج

اسٹارلنک اور راکٹ لانچز سے آگے بڑھتے ہوئے سپیس ایکس اب ایک ایسے مستقبل کی طرف قدم بڑھا رہی ہے جہاں انسان زمین سے باہر مستقل رہائش اختیار کرے۔

کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سی ای او ایلون مسک کے لیے ایک نئی کارکردگی پر مبنی معاوضہ پالیسی منظور کر لی ہے جس کے تحت ان کی سالانہ تنخواہ بدستور تقریباً 54 ہزار ڈالر ہی رہے گی۔ اصل کمائی کا انحصار اب صرف اس بات پر ہوگا کہ کمپنی اپنے طویل المدتی اور نہایت بڑے اہداف حاصل کر پاتی ہے یا نہیں۔

یہ کبھی پڑھیں :ایلون مسک کا نیا اعلان، ایکس اب بنے گا آپ کا بینک بھی

اس منصوبے کے مطابق مسک کو 200 ملین سپر ووٹنگ شیئرز صرف اسی صورت میں ملیں گے جب کمپنی کی مالیت 7.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے اور مارس پر کم از کم 10 لاکھ افراد پر مشتمل مستقل انسانی آبادی قائم ہو جائے۔ اس کے علاوہ 60.4 ملین اضافی شیئرز بھی مختلف اہداف سے مشروط ہیں جن میں مخصوص مالی سطح حاصل کرنا اور خلا میں ایسے بڑے ڈیٹا سینٹرز قائم کرنا شامل ہے جو 100 ٹیراواٹ تک کمپیوٹنگ طاقت فراہم کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں :سام سنگ نے پاکستان میں نئے اسمارٹ فونز متعارف کرا دئیے، قیمت بھی سامنے آگئی

یہ معاہدہ ایک واضح شرط کے ساتھ جڑا ہوا ہے اگر یہ اہداف پورے نہ ہوئے تو مسک کو کوئی ایکویٹی نہیں ملے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2019 سے مسک صرف معمولی تنخواہ لے رہے ہیں اور اپنی زیادہ تر دولت کمپنی کے شیئرز سے حاصل کرتے ہیں۔ اپریل 2026 کے مطابق، فوربز نے ان کی مجموعی دولت تقریباً 817 ارب ڈالر بتائی ہے۔

یہ نیا معاوضہ ماڈل دراصل صرف ایک تنخواہ کا معاملہ نہیں بلکہ سپیس ایکس کے اس بڑے وژن کی عکاسی کرتا ہے جس میں کمپنی خود کو صرف راکٹ لانچ کرنے والی کمپنی نہیں بلکہ ایک مکمل خلائی انفراسٹرکچر پلیٹ فارم کے طور پر دیکھ رہی ہے جہاں بین السیاری سفر، خلا میں ڈیٹا سینٹرزاور زمین سے باہر انسانی آبادکاری ایک حقیقت بن سکے۔

editor

Related Articles