یورپی کمیشن کے ایک مجوزہ فیصلے نے عالمی ڈیجیٹل دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے جس کے تحت لاکھوں یورپی شہریوں کے انٹرنیٹ سرچ ڈیٹا کو تیسرے فریق کمپنیوں کے ساتھ شیئر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اقدام یورپی یونین کے ڈیجیٹل مارکیٹ ایکٹ ( ڈی ایم اے ) کے تحت کیا جا رہا ہے جس کا مقصد ڈیجیٹل کمپنیوں کے درمیان مقابلے کو فروغ دینا بتایا جا رہا ہے۔
منصوبے کے مطابق بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، خصوصاً گوگل، کو پابند کیا جائے گا کہ وہ صارفین کے روزمرہ سرچ ڈیٹا کو مختلف تھرڈ پارٹی اداروں کے ساتھ شیئر کریں۔ اگرچہ یورپی کمیشن کا مؤقف ہے کہ یہ ڈیٹا “گمنام” ہوگا تاہم ماہرین اور گوگل دونوں نے اس دعوے پر سنگین تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
گوگل کی سینیئر قانونی مشیر کلیئر کیلی نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کا ڈیٹا شیئرنگ سسٹم سیکیورٹی کے لحاظ سے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے ہیکنگ، ڈیٹا لیک اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرچ ڈیٹا بظاہر گمنام ہونے کے باوجود “ڈیجیٹل فنگر پرنٹ” بنا سکتا ہے جس کے ذریعے کسی بھی صارف کی شناخت ممکن ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب یہ فیصلہ اگر نافذ ہوتا ہے تو ڈیجیٹل پرائیویسی کے عالمی معیار پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ بعض حلقوں میں اسے “ڈیجیٹل گولاگ” سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے، جہاں صارفین کی آن لائن سرگرمیوں پر غیر معمولی نگرانی کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔
یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے جب گوگل نے کھل کر اس منصوبے کی مخالفت کی ہے اور اسے صارفین کی رازداری کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ تنازع آنے والے دنوں میں یورپی یونین اور عالمی ٹیک انڈسٹری کے درمیان بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔