مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایران کیخلاف جنگ کا آپشن کھلا ہے، اسرائیل کی دھمکی

مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایران کیخلاف جنگ کا آپشن کھلا ہے، اسرائیل کی دھمکی

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے ایک بار پھر ایران کے خلاف جنگ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایران کے مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ایران کو جنگ کا نشانہ بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اس سلسلے میں اپنی فوجی آپشن کو کھلا رکھا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے عرب میڈیا سے انٹرویو میں  کہا  کہ اسرائیل سفارتی کوششوں کو موقع دینا چاہتا ہے اور یہ موقع اس وقت تک جاری رہے گا جب تک صدر ٹرمپ نے دوسرا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا،  انہوں نے اس امر کو مسترد کیا کہ اسرائیل واشنگٹن پر اثر انداز ہوا جس کے نتیجے میں 28 فروری کو جنگ شروع ہوئی۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے یہ بھی الزام عائد کیا  کہ امریکہ و اسرائیل دونوں اس بات پر یکسو ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہییں کہ وہ زمین پر سب سے زیادہ انتہا پسند رجیم ہے،  اس مقصد کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ایران امریکی مطالبات کو تسلیم کرے حتیٰ کہ اپنا افزودہ کیا ہوا یورینیئم بھی اپنے ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کرے اور آئندہ کے لیے افزودگی روک دے۔

لبنان کی حزب اللہ کے بارے میں وزیر خارجہ نے کہا یہ ایرانی حمایت یافتہ ہیں اور لبنان کو جنگ میں دھکیلتی رہتی ہیں،  تاکہ لبنانی حکومت کی مرضی کے برعکس ایرانی ہدایات پر عمل کر سکیں ، حزب اللہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو کمزور کرنا چاہتی ہے جبکہ میں اسرائیل کی طرف سے یہ بات دہرا کر کہتا ہوں کہ اسرائیل کو لبنان کے اندرونی علاقوں میں کارروائیاں کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی ناکہ بندی کو جینیئس فیصلہ قرار دیدیا

اسرائیلی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل لبنان سے انخلا قبول کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حزب اللہ اور اس طرح کے دیگر مسلح گروپوں کو ہتھیار رکھنے سے روکا جائے اور انہیں غیر مسلح کیا جائے،  یہ کام لبنانی حکام کو پوری قوت سے کرنا چاہیے اور ہتھیار صرف لبنانی فوج کے پاس رہنے چاہییں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حماس کو مکمل غیر مسلح کرنے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے،  جس کے تحت مصر اور حماس صدر ٹرمپ کے امن بورڈ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل مسائل کے سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔ لیکن انہوں نے خبردار کیا سفارتی کوششوں کے علاوہ دیگر آپشنز بھی ہمارے سامنے رہیں گی اگر امریکہ و ایران کے مذاکرات ناکام ہوگئے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ آج کل جنگ کی بجائے ایران کی بحری ناکہ بندی کر کے اسے معاشی اعتبار سے نقصان پہنچانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں اور اس دوران ایران کو بار بار مذاکرات کی طرف مائل کر رہے ہیں۔۔

editor

Related Articles