پی ایم ڈی سی نے میڈیکل کالجز میں طلبہ کی مینٹل ہیلتھ اسکریننگ لازمی قرار دے دی

پی ایم ڈی سی نے میڈیکل کالجز میں طلبہ کی مینٹل ہیلتھ اسکریننگ لازمی قرار دے دی

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں طلبہ اور فیکلٹی ممبران میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحانات اور شدید ذہنی دباؤ کے پیشِ نظر ’مینٹل ہیلتھ اسکریننگ پروٹوکول‘ نافذ کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔

جمعرات کو ’پی ایم ڈی سی ‘ نے ملک بھر کے تمام میڈیکل اداروں کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت اب طلبہ اور اساتذہ کی ذہنی صحت کا تحفظ انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہوگی۔

نئے پروٹوکولز کی تفصیلات

صدر پی ایم ڈی سی کے مطابق اب سے ہر میڈیکل کالج میں داخلے کے وقت طالب علم کی ذہنی صحت کی اسکریننگ کی جائے گی، جبکہ سالانہ بنیادوں پر بھی تمام طلبہ اور فیکلٹی کا نفسیاتی معائنہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے طلباء کے لیئے اہم خوشخبری: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا بڑا فیصلہ

اس اقدام کا مقصد ذہنی مسائل کی بروقت نشاندہی اور فوری علاج کو یقینی بنانا ہے۔ پی ایم ڈی سی نے تمام اداروں کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے ہاں ’ڈیپارٹمنٹ آف سائیکاٹری‘ اور ’کونسلنگ سیکشن‘ لازمی قائم کریں جہاں ماہرینِ نفسیات تعینات ہوں۔

کونسل نے ہدایات دی ہیں کہ ذہنی دباؤ کے شکار افراد کو فوری طور پر ماہرین کے پاس ریفر کیا جائے اور اس دوران رازداری (خفیہ معاونت) کا خاص خیال رکھا جائے۔

صدر پی ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ اداروں کو معیاری نفسیاتی سہولیات اور عملہ رکھنے کے لیے فوری عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا اور اس میں کسی قسم کی سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

میڈیکل کی تعلیم اور بڑھتا ہوا نفسیاتی بحران

میڈیکل کی تعلیم کو دنیا بھر میں مشکل ترین شعبہ مانا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں یہ صورتحال تشویشناک حد تک سنگین ہو چکی ہے، میڈیکل کے طلبہ کو 5 سالہ نصاب کے دوران طویل امتحانات، اسپتال کی ڈیوٹیوں اور نیند کی کمی کا سامنا رہتا ہے، جس سے ’برن آؤٹ‘ کے کیسز عام ہیں۔

گزشتہ چند سالوں میں ملک کے بڑے میڈیکل کالجز اور ہاسٹلز میں کئی ہونہار طلبہ نے تعلیمی دباؤ یا فیل ہونے کے ڈر سے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، جس نے پورے نظامِ تعلیم پر سوالات اٹھائے۔

اکثر یہ شکایات سامنے آتی ہیں کہ سینیئر اساتذہ کا رویہ جونیئر طلبہ کے ساتھ غیر پیشہ ورانہ ہوتا ہے، جو ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

اسکریننگ پروٹوکولز کے دوررس اثرات

پی ایم ڈی سی کے اس فیصلے کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ شعبہ طب میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں نفسیاتی مسائل کو عام طور پر چھپایا جاتا ہے۔

اسکریننگ لازمی قرار دینے سے ذہنی صحت کے مسائل کو بھی جسمانی بیماریوں کی طرح عام سمجھا جائے گا اور طلبہ بلا جھجک مدد مانگ سکیں گے۔

ایک پرسکون ذہن کے ساتھ ڈاکٹرز نہ صرف بہتر تعلیم حاصل کر سکیں گے بلکہ مریضوں کی دیکھ بھال بھی زیادہ ہمدردی اور توجہ سے کر سکیں گے۔

سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ کالج انتظامیہ ان نتائج کو طلبہ کے خلاف استعمال نہ کرے (مثلاً داخلہ منسوخ کرنا یا تعصب برتنا)۔ پی ایم ڈی سی کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اسکریننگ کا مقصد ‘علاج’ ہو نہ کہ ‘اخراج’۔ فیکلٹی ممبران کی اسکریننگ سے تعلیمی ماحول میں تناؤ کم ہوگا اور اساتذہ و طلبہ کے درمیان بہتر تعلقات استوار ہوں گے۔

Related Articles