پاک، آسٹریا انسٹی ٹیوٹ میں 68 سالہ ’پی ڈی‘ کی 10 سالہ تعیناتی، برطرفی کی فائلیں دبا دی گئیں، خیبر پختونخوا حکومت پر بڑا سوال اٹھ گیا

پاک، آسٹریا انسٹی ٹیوٹ میں 68 سالہ ’پی ڈی‘ کی 10 سالہ تعیناتی، برطرفی کی فائلیں دبا دی گئیں، خیبر پختونخوا حکومت پر بڑا سوال اٹھ گیا

خیبر پختونخوا کے سرکاری شعبے کے مایہ ناز تعلیمی ادارے ’پاک-آسٹریا فاخ ہوچشولے انسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی‘ میں انتظامی شفافیت اور قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑانے کا انکشاف ہوا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ادارے کی تکمیل اور ریکٹر کی تعیناتی کے برسوں بعد بھی 68 سالہ نصیر خان بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر (پی ڈی) اپنے عہدے پر براجمان ہیں۔

میڈیا کو دستیاب دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت اور گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے ان کی برطرفی کا خلاصہ منظور ہونے کے باوجود تاحال کوئی سرکاری نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا، جس نے کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔

انتظامی پیچیدگیاں اور بھاری مراعات

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نصیر خان مئی 2018 میں یونیورسٹی آف پشاور سے 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہو چکے تھے تاہم انہیں خلافِ ضابطہ برقرار رکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:کوہستان کرپشن اسکینڈل میں بڑی پیشرفت، 10 ملزمان نیب کے سامنے سرنڈر، 23 کروڑ سے زائد اثاثے واپس کرنے کی پیشکش

ادارے کے پاس پروجیکٹ ڈائریکٹر کا کوئی منظور شدہ مستقل عہدہ بھی موجود نہیں تھا، اس کے باوجود انہیں ریکٹر نے ادارے کی باقاعدہ سروس میں شامل کر لیا۔ مبینہ طور پر نصیر خان کی ماہانہ تنخواہ 25 لاکھ (2.5 ملین) روپے ہے، جس پر انہوں نے میڈیا کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔

عارضی تعیناتی سے مستقل انضمام تک

اس کیس کا پس منظر ادارے کے قیام اور انتظامی پالیسیوں کے گرد گھومتا  ہے، نصیر خان کو 2016 میں عارضی طور پر پی ڈی مقرر کیا گیا، جن کا معاہدہ 2019 میں ختم ہو گیا تھا مگر وہ مسلسل کام کرتے رہے۔

2021 میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (ایچ ای ڈی) نے ریکٹر کی موجودگی میں پی ڈی کے عہدے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ان کی برطرفی کی سفارش کی، جسے وزیراعلیٰ اور گورنر نے منظور کیا لیکن فائل دبا دی گئی۔

پی ڈی کے ساتھ مزید 26 افسران کو بھی پی ایم یو سے یونیورسٹی کے باقاعدہ پے رول پر منتقل کر دیا گیا، جو کہ صوبائی پروجیکٹ پالیسی کی خلاف ورزی معلوم ہوتی ہے۔

شفافیت کا فقدان اور مالیاتی اثرات

اس معاملے کا تجزیہ کرنے پر چند اہم قانونی اور اخلاقی نکات سامنے آتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی پروجیکٹ پالیسی واضح طور پر کسی بھی پروجیکٹ ملازم کو محکمے میں باقاعدہ جذب کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

نصیر خان کا یہ استدلال کہ ’نیم خودمختار ادارے‘ پر یہ قوانین لاگو نہیں ہوتے، ایک کمزور دفاع ہے کیونکہ عوامی فنڈز کے استعمال کے لیے صوبائی قوانین کی پاسداری لازم ہے۔

واضح رہے کہ ایک ایسے وقت میں جب صوبہ مالی بحران کا شکار ہے، ایک ریٹائرڈ شخص کو 25 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھنا اور ادارے کی تکمیل کے بعد بھی پی ڈی کا عہدہ برقرار رکھنا خزانے پر بھاری بوجھ ہے۔

انتظامی طور پر جب ایک مکمل فعال ریکٹر موجود ہو، تو پروجیکٹ ڈائریکٹر کا متوازی عہدہ اختیارات کے ٹکراؤ اور بدانتظامی کا باعث بنتا ہے۔ اس کے علاوہ نصیر خان کا مؤقف ہے کہ اسکول آف میڈیسن اور ڈینٹسٹری جیسے نئے پی سی ون زیرِ غور ہیں، اس لیے ان کا عہدہ ضروری ہے جبکہ دوسری جانب ناقدین اسے اپنے قیام کو طول دینے کا ایک حربہ قرار دیتے ہیں۔

Related Articles