پیوٹن کی ٹرمپ کو سخت وارننگ، ایران پر حملے کے سنگین نتائج سے خبردار کر دیا

پیوٹن کی ٹرمپ کو سخت وارننگ، ایران پر حملے کے سنگین نتائج سے خبردار کر دیا

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 90 منٹ پر مشتمل ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ خلیجی خطے اور یوکرین کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کریملن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سلامتی سے متعلق امور پر گفتگو کی۔ اس موقع پر پیوٹن نے ایران اور خلیجی خطے کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کی گئی تو اس کے نہایت سنگین نتائج نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق روسی صدر نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے اقدام کو مثبت پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ اس سے سفارتی مذاکرات کے دروازے کھلیں گے اور خطے میں استحکام پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ روس نے بھی اس حوالے سے سفارتی کوششوں میں تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تیل بحران شدت اختیار کر گیا، قیمتیں 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے 2022 سے جاری یوکرین جنگ پر بھی تفصیلی بات کی۔ روسی حکام کے مطابق پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ ان کی افواج میدانِ جنگ میں برتری حاصل کر رہی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر نے 9 مئی کے موقع پر عارضی جنگ بندی کی پیشکش بھی کی ہے جس کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حمایت کی ہے۔

واضح رہے کہ روس ہر سال 9 مئی کو دوسری عالمی جنگ میں فتح کی یاد میں فوجی پریڈ منعقد کرتا ہے، تاہم اس سال سیکیورٹی خدشات کے باعث تقریبات کو محدود سطح پر منعقد کیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles