ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے ہیومنائیڈ روبوٹکس کے شعبے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے اسٹارٹ اپ’ اے شیورڈ روبوٹ انٹیلیجنس‘ کو خریدنے کا اعلان کر دیا ہے۔ معاہدے کی مالی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
میٹا کے ترجمان کے مطابق اے آرآئی ایک جدید کمپنی ہے جو ایسے ذہین روبوٹس پر کام کر رہی تھی جو انسانوں کے رویوں کو سمجھنے، پیشگوئی کرنے اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت اےآرآئی کی پوری ٹیم، بشمول بانیان، میٹا کےاےآئی’’ یونٹ سپرانٹلجنس لیبز‘‘کا حصہ بنے گی۔ یہ ٹیم خاص طور پر ایسے ماڈلز تیار کرے گی جو روبوٹس کو خود سیکھنے اور مکمل جسمانی کنٹرول کے قابل بنائیں۔
اےآرآئی ایسے فاؤنڈیشن ماڈلز تیار کر رہی تھی جو ہیومنائیڈ روبوٹس کو گھریلو کاموں سمیت مختلف جسمانی کام انجام دینے کے قابل بناتے ہیں۔ کمپنی کے شریک بانی زیاولونگ وانگ اس سے قبل نویڈیا میں ریسرچر رہ چکے ہیں جبکہ لیرل پنٹو، ایمیزون کی جانب سے حال ہی میں حاصل کیے گئے روبوٹکس اسٹارٹ اپ فاونا روبوٹکس سے بھی وابستہ رہے ہیں۔
میٹا کافی عرصے سے ہیومنائیڈ روبوٹس پر تحقیق کر رہا ہے اور ماضی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق کمپنی صارفین کے لیے ایسے روبوٹس تیار کرنے کے منصوبے پر بھی غور کر رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی عمومی ذہانت ’اے جی آئی ‘تک پہنچنے کے لیے اےآئی کو حقیقی دنیا میں سیکھنے کی ضرورت ہوگی جہاں روبوٹس عملی تجربے کے ذریعے بہتر ہوتے ہیں، نہ کہ صرف ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ معاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر ہیومنائیڈ روبوٹکس کے میدان میں تیزی آ چکی ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق اس صنعت کی مالیت آئندہ دہائیوں میں اربوں سے کھربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے تاہم اس کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بھی برقرار ہے۔