امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جنرل‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ جاری ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے اپنی شرائط میں غیر معمولی نرمی کر دی ہے۔
ایران نے واشنگٹن کو ایک نئی تجویز ارسال کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا ایرانی بندرگاہوں پر حملے روکنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی ضمانت دے، تو ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اس پیش رفت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایران نے اگلے ہفتے پاکستان میں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا اشارہ بھی دے دیا ہے۔
تعطل کا خاتمہ اور نئی تجاویز
رپورٹ کے مطابق ایران اپنی معیشت پر پڑنے والے بھاری بوجھ کو کم کرنے کے لیے پابندیوں میں نرمی چاہتا ہے، جس کے بدلے وہ اپنے جوہری پروگرام پر دوبارہ گفتگو کرنے پر آمادہ ہے۔
اس سے قبل ایران کا مؤقف تھا کہ جب تک ناکہ بندی مکمل ختم نہیں ہوتی وہ جوہری پروگرام پر بات نہیں کرے گا، تاہم اب وہ ان معاملات پر مرحلہ وار پیش رفت کیلئے تیار دکھائی دیتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا محتاط ردعمل
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن میں ابھی اس سے مطمئن نہیں ہوں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے‘۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے واضح کیا کہ صدر کا ہدف ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنا ہے اور مذاکرات امریکی قومی سلامتی کو مدنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔
معاشی جنگ اور آبنائے ہرمز کا محاصرہ
ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت سنگین صورتحال اختیار کر گئی جب ایران نے عالمی تیل کی سپلائی کے اہم ترین راستے ’آبنائے ہرمز‘ کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا۔
اس کے جواب میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی تاکہ تہران کی غیر ملکی آمدنی کے ذرائع بند کیے جا سکیں۔ اس ’دہری گرفت‘ نے جہاں ایران کی برآمدات کو محدود کیا، وہیں عالمی منڈی میں برینٹ آئل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رکھی، جس سے پوری دنیا کی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستان کا بطور ثالث کلیدی کردار
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے پاکستان کو مذاکرات کے مقام کے طور پر منتخب کرنا اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور کامیاب سفارت کاری کا ثبوت ہے۔ ایران اور امریکا دونوں ہی پاکستان پر اعتماد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
کولمبیا یونیورسٹی کے ماہر رچرڈ نیفیو کے بقول، یہ نئی تجویز دونوں فریقین کو محدود معاشی ریلیف فراہم کر سکتی ہے اور وقت طلب مسائل کو ٹال کر فوری حل کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ تاہم جوہری افزودگی کی مدت اور معطلی جیسے بنیادی مسائل پر اب بھی دونوں فریقین کے درمیان گہری خلیج موجود ہے، جسے پُر کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔