خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں ایک محنت کش باپ کے بیٹے نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے نئی مثال قائم کر دی۔ ڈپٹی کمشنر دفتر میں نائب قاصد کے طور پر خدمات انجام دینے والے پیر محمد کے بیٹے بلال نے سی ایس ایس 2025 کے مشکل ترین امتحان میں نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے صوبے بھر میں پہلی اور ملک بھر میں اٹھارہویں پوزیشن حاصل کر لی۔
بلال کی یہ کامیابی محدود وسائل کے باوجود مسلسل محنت، عزم اور لگن کا نتیجہ ہے۔ ان کے والد پیر محمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے بیٹے کو تعلیم پر توجہ دینے اور محنت جاری رکھنے کی تلقین کی، اور یہی اصول اس کامیابی کی بنیاد بنے۔
پیر محمد نے بیٹے کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے باعثِ فخر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلال کی محنت غریب اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کے لیے امید کی ایک روشن مثال ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں اگر ارادہ مضبوط ہو تو کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
بلال نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور سے انگریزی میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی تھی اور اسی تعلیمی بنیاد پر انہوں نے سی ایس ایس جیسے مشکل امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ ان کی اس شاندار کارکردگی پر علاقے کے عوام اور مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے۔
سی ایس ایس کا امتحان پاکستان کے مشکل ترین مقابلہ جاتی امتحانات میں شمار ہوتا ہے جس کے ذریعے ملک کی اعلیٰ سرکاری سروسز کے لیے افسران کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ہر سال ہزاروں امیدوار اس امتحان میں حصہ لیتے ہیں، مگر کامیابی صرف چند ہی افراد کے حصے میں آتی ہے، ایسے میں حضرت بلال کی کامیابی کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ۔