عالمی منڈی میں پیر کے روز سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں سرمایہ کاروں کی توجہ مہنگائی کے خدشات، امریکی مانیٹری پالیسی اور امریکا ایران کشیدگی میں ممکنہ پیش رفت پر مرکوز رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق اسپاٹ گولڈ 0.3 فیصد کمی کے بعد 4,599.45 ڈالر فی اونس پر آ گیا، جبکہ جون کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 4,611.40 ڈالر پر ٹریڈ ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور شرح سود میں کمی کی توقعات کم ہونے کے باعث سونے کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جسے انہوں نے انسانی ہمدردی کا اقدام قرار دیا۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا نے پاکستان کے ذریعے ایران کو نئی تجاویز بھیجی ہیں، جن پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں ممکنہ سفارتی پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔
گزشتہ ہفتے فیڈرل ریزرو نے شرح سود برقرار رکھتے ہوئے سخت پالیسی اپنائی، جس کے بعد رواں سال شرح سود میں کمی کی توقعات مزید کمزور ہو گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں تو مرکزی بینک طویل عرصے تک شرح سود بلند رکھ سکتے ہیں، جس سے سونے جیسے غیر منافع بخش اثاثوں کی کشش متاثر ہوتی ہے۔
دوسری جانب دیگر قیمتی دھاتوں میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا، جہاں چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کار عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، توانائی مارکیٹ اور جغرافیائی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جو آئندہ دنوں میں سونے کی قیمتوں کی سمت کا تعین کریں گے۔