کمپنی کے شریک بانی جیوف بروڈر ہیں جو ماضی میں ناسا میں تھرمل انرجی کنورژن پر تحقیق کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آگ سے نمٹنے کے موجودہ طریقے ہمیشہ مؤثر یا محفوظ نہیں ہوتے۔
ان کے مطابق پانی ہر جگہ دستیاب نہیں ہوتا اور بعض صورتوں میں اس سے مزید نقصان بھی ہو سکتا ہے، جبکہ کیمیکل آگ بجھانے والے مادے انسانی صحت اور ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
نئی ٹیکنالوجی میں انفراساؤنڈ لہروں کے ذریعے آگ کے بنیادی عناصر پر اثر ڈالا جاتا ہے۔ آگ جلنے کے لیے حرارت، ایندھن اور آکسیجن ضروری ہوتے ہیں اور اگر ان میں سے کسی ایک عنصر کو الگ کر دیا جائے تو آگ خود بخود بجھ سکتی ہے۔
اس سسٹم میں کم فریکوئنسی آواز آکسیجن کے مالیکیولز کو اس طرح متحرک کرتی ہے کہ وہ ایندھن تک نہیں پہنچ پاتےجس سے دہن کا عمل رک جاتا ہے۔
جیوف بروڈر کے مطابق یہ عمل آکسیجن کی حرکت کو اس حد تک متاثر کرتا ہے کہ ایندھن اسے استعمال نہیں کر پاتا اور یوں آگ کا کیمیائی عمل ختم ہو جاتا ہے۔
مستقبل کی فائر فائٹنگ؟
ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اگر بڑے پیمانے پر کامیاب ہو گئی تو فائر فائٹنگ کے طریقوں میں ایک بڑا انقلاب آ سکتا ہے، جہاں پانی اور کیمیکل کے بجائے صرف آواز سے آگ پر قابو پایا جا سکے گا۔