مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ، ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کے بعد تیل کی عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کے نئے خدشات جنم لینے لگے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی کارروائی اور متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں واقع پیٹرولیم تنصیبات پر حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں بے چینی پھیل گئی جس کے باعث عالمی منڈیوں میں پہلے سے موجود غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہوگئی۔ اس کشیدہ ماحول کے اثرات فوری طور پر تیل کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوئے جہاں برطانوی خام تیل کی قیمت میں ساڑھے 5 ڈالر کا نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 113.72 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی بھی 3.30 ڈالر مہنگا ہو کر 103 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہونے لگا اسی طرح یو اے ای مربن کروڈ کی قیمت بھی بڑھ کر 106.50 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
دوسری جانب ایک اہم پیش رفت میں متحدہ عرب امارات نے پیٹرولیم برآمد کرنے والے عرب ممالک کی تنظیم (او اے پیک) سے علیحدگی اختیار کرلی ہے جسے توانائی کی عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ او اے پیک کے جنرل سیکرٹریٹ نے یو اے ای کے کردار کو سراہتے ہوئے اس فیصلے کے باوجود رکن ممالک کے درمیان تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق او اے پیک چونکہ تیل کی پیداوار کی کوئی حد مقرر نہیں کرتا اس لیے یو اے ای کی علیحدگی کا فوری طور پر عالمی سپلائی پر بڑا اثر متوقع نہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مستقبل میں تیل کی منڈی میں طاقت کے توازن کو ضرور متاثر کرسکتا ہے۔
یو اے ای کے وزیر توانائی سہیل محمد المزروعی نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر قومی مفاد کے تحت کیا گیا ہے اور اس کا مقصد پیداوار اور برآمدی پالیسی پر مکمل خودمختاری حاصل کرنا ہے تاکہ ملک اپنے تیل کے ذخائر سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا تیزی سے قابل تجدید توانائی کی جانب بڑھ رہی ہے۔