ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھی آبنائے ہرمز میں جاری سیکیورٹی مشن کا حصہ بن جائے، جس سے خطے کی صورتحال مزید سنگین ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں نہ صرف امریکا بلکہ دیگر غیر متعلقہ ممالک کو بھی نشانہ بنا رہا ہے جس سے عالمی تجارت اور جہاز رانی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
ٹرمپ نے ایک حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جنوبی کوریا کے ایک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اس میں آگ بھڑک اٹھی ان کے مطابق یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں کشیدگی اب صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جنوبی کوریا بھی اس مشن میں شامل ہو جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایران کی سات چھوٹی کشتیوں کو تباہ کر دیا تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ براڈ کاپر کے مطابق چھ کشتیوں کو نشانہ بنایا گی جس سے بیانات میں تضاد بھی سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی عسکری صلاحیت محدود ہو چکی ہے، لیکن اس کے باوجود خطہ بدستور نہایت حساس اور خطرناک ہے، جبکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جنوبی کوریا کے جہاز کے علاوہ کسی اور تجارتی جہاز کو فی الحال نقصان نہیں پہنچا۔
ماہرین کے مطابق اگر مزید ممالک اس تنازع میں شامل ہوئے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھے گی بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی ترسیل اور تجارت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔