عالمی تجارت کے لیے اہم ترین آبی گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ میں ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
امریکی فوج نے باقاعدہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک تازہ کارروائی کے دوران ایران کی 6 جنگی کشتیوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ فضائی کارروائی ’اپاچی‘ اور ’سی ہاک‘ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کی گئی، جس کا مقصد امریکی بحری بیڑے کو درپیش ممکنہ خطرات کو روکنا تھا۔
دوسری جانب ایران نے امریکی دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے محض پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ ایرانی فوجی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی جہازوں نے ایرانی حدود کے قریب وارننگ کو نظر انداز کیا، جس پر جوابی ردعمل دیتے ہوئے 2 میزائل فائر کیے گئے۔
تہران کا دعویٰ ہے کہ ان میزائل حملوں کے بعد امریکی جنگی جہاز پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے تمام جہاز محفوظ ہیں اور کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔
پرانا تنازع اور حالیہ اشتعال انگیزی
آبنائے ہرمز دنیا کی وہ حساس ترین گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی ضرورت کا تقریباً 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان اس خطے میں کشیدگی کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے، لیکن حالیہ مہینوں میں بحری ناکہ بندیوں اور ایک دوسرے کے جہازوں کو قبضے میں لینے کے واقعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
فروری 2026 سے شروع ہونے والی اس تازہ لہر میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست عسکری جھڑپوں کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
کیا یہ جھڑپ کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ ہے؟
دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے نقصانات کے دعوے اور اپنی کامیابی کی رپورٹنگ ظاہر کرتی ہے کہ یہ صرف عسکری نہیں بلکہ ایک ’انفارمیشن وار‘ بھی ہے۔
امریکا اپنی فضائی برتری ثابت کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران اپنے میزائل پروگرام کے ذریعے یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ امریکی بحریہ کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کارروائی میں جدید ترین ہیلی کاپٹروں اور میزائلوں کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب دونوں فریقین ایک دوسرے کو جانچنے کے لیے ’اسینڈنگ لیول‘ کی طاقت استعمال کر رہے ہیں۔ 6 کشتیوں کی تباہی کا امریکی دعویٰ اگر درست ہے تو یہ ایران کے بحری دفاع کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
آبنائے ہرمز میں معمولی سی بدامنی بھی عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ اگر یہ کشیدگی برقرار رہتی ہے تو انشورنس کمپنیاں اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کے نرخ بڑھا دیں گی، جس کا براہِ راست اثر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑے گا۔