ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے بات چیت کا عمل اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہا آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے حالیہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ کسی بھی سیاسی بحران کا فوجی حل ممکن نہیں۔ انہوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ وہ کسی کے کہنے پر دوبارہ کسی دلدل میں نہ پھنسے۔ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات کو بھی موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر محتاط رہنے کا مشورہ دیا اور امریکی اقدام پراجیکٹ فریڈم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے پراجیکٹ ڈیڈ لاک قرار دیا۔
عباس عراقچی نے ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے پاکستان میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے دوران پیش کی جانے والی تجاویز اور سفارشات سے کمیٹی اراکین کو آگاہ کیا۔
اجلاس کے دوران وزیر خارجہ نے خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کیلئے جاری سفارتی کوششوں سے متعلق تازہ صورتحال بھی شیئر کی۔ ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹیوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کے عمل میں ایران کے مفادات کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔