ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

ملک میں توانائی کے بحران اور مہنگائی کی لہر نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، جہاں پشاور میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سرکاری نرخ نامے کے برعکس ایل پی جی 100 روپے تک مہنگی فروخت کی جا رہی ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں گیس کی قیمت 380 سے بڑھ کر 420 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

سرکاری نرخ 304 روپے مقرر ہونے کے باوجود مارکیٹ میں گراں فروشی کا سلسلہ عروج پر ہے اور انتظامیہ اس پر عملدرآمد کرانے میں ناکام نظر آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیزل، ایل پی جی، آٹے اور چینی کی قیمتوں میں کمی

دوسری جانب، مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔

 برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت 6.27 فیصد اضافے کے بعد 114 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، جبکہ یو اے ای کا مربان کروڈ 3.54 فیصد اضافے کے ساتھ 107 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔

اس کے برعکس امریکی خام تیل کی قیمت میں 1.5 فیصد کی معمولی کمی دیکھی گئی ہے جس کے بعد یہ 105 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کا بحران اور توانائی کا عالمی چیلنج

مئی 2026 میں مشرق وسطیٰ کے حالات میں اچانک خرابی نے عالمی توانائی کی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جب بھی خلیجی خطے میں جنگی بادل منڈلاتے ہیں، عالمی منڈیوں میں تیل اور گیس کے نرخوں میں بے یقینی پیدا ہو جاتی ہے۔

پاکستان جیسے ممالک، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر منحصر ہیں، اس صورتحال سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ مقامی سطح پر ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ دراصل سپلائی کی کمی اور عالمی نرخوں کے اثرات کا مجموعہ ہے، جس کا فائدہ اکثر ذخیرہ اندوز اٹھاتے ہیں۔

آئی ایم ایف کا انتباہ اور عالمی معیشت کو خطرات

واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی جنگ طویل ہوئی اور تیل کی قیمت 125 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، تو عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ اس سے عالمی سطح پر کساد بازاری (ریسیشن) کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:عوام کو بڑا ریلیف، 17 اضلاع میں ’فری ٹرانسپورٹ‘ چلانے، ایل پی جی کے نرخ بھی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور عالمی منڈی میں تیل کے 114 ڈالر تک پہنچنے سے پاکستان کے درآمدی بل میں اربوں روپے کا اضافہ ہوگا۔ ایل پی جی کا 420 روپے کلو تک پہنچنا غریب طبقے کے لیے کچن بجٹ کو ناقابلِ برداشت بنا دے گا، کیونکہ سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ایل پی جی ہی واحد متبادل ہے۔

پشاور میں سرکاری ریٹ 304 روپے اور مارکیٹ ریٹ 420 روپے کے درمیان 116 روپے کا فرق مقامی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ قیمتوں میں واضح فرق ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ کنٹرول کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔

Related Articles