چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کے قتل کے کیس میں تحقیقات کے دوران اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ابتدائی شواہد سے افغان دہشت گردوں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی اور مقامی پولیس پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا تفصیلی جائزہ لیا، جس سے ٹارگٹ کلرز کی تصاویر حاصل کر لی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق واردات میں ملوث چار افراد میں سے ایک دہشت گرد کی نشاندہی کر لی گئی ہے جس کی شناخت سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ممکن ہوئی۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق افغان دہشت گردوں سے ہے اور وہ ایک غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے ساتھ رابطے میں رہے تاہم اس حوالے سے مزید تصدیق کی جا رہی ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق اسی سراغ کی بنیاد پر پورے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش جاری ہے، جبکہ ابتدائی شواہد سے واقعے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں