لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا ہے کہ برصغیر میں مسلمانوں کی طویل جدوجہد اور بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا، اور آج یہ ایک مضبوط اور مستحکم ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے کھڑا ہے، وہ وزارتِ اطلاعات کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے جہاں کتاب دی بیٹل آف ٹروتھ کی رونمائی بھی کی گئی۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہمارے بزرگ ہوا کرتے تھے میر ہزار خان بجرانی، انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی تھی میں ان سے ذاتی طور پر ملا تھا، انہوں نے مجھے ایک تصویر دکھائی جیسے کہا جاتا ہے کہ کتاب ایک تصویری نمائندگی ہوتی ہے اور ایک تصویر ہزار لفظوں کے برابر ہوتی ہے، مگر جو تصویر انہوں نے مجھے دکھائی وہ لاکھوں لفظوں کے برابر تھی۔
یہ تصویر خود میر ہزار خان کی تھی کیونکہ وہ اس تحریک کے ایک عسکری کمانڈر رہے تھے، ہمارے بلوچ دوست جانتے ہیں کہ یہ 70 کی دہائی کی بات ہے۔ اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے، وہ اب ہمارے درمیان نہیں رہے بعد میں ان کی پاکستان کے ساتھ دوستی ہو گئی۔
اس تصویر میں کابل کا منظر تھا جہاں اس وقت افغانستان کی انٹیلیجنس ایجنسی KHAD کا سربراہ موجود تھا، RAW (بھارت کی انٹیلیجنس ایجنسی) کا اسٹیشن چیف بھی وہاں بیٹھا تھا اور KGB (سوویت یونین کی انٹیلیجنس ایجنسی) کے اہلکار بھی موجود تھے انہوں نے مجھے اس تصویر کی پوری کہانی سنائی جس سے بہت سی باتیں واضح ہو جاتی ہیں۔
2006-07 میں پاکستان میں بھارتی سفارت خانے کا ایک افسر تھا جس کا نام دیپک کول تھا وہ غالباً کمرشل اتاشی تھا جب وہ حکومتِ پاکستان کی اجازت سے بذریعہ سڑک دہلی واپس جا رہا تھا تو راستے میں بلوچ عسکریت پسندوں کے نمائندوں سے ملاقات کرتے ہوئے 4 لاکھ ڈالر دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا چونکہ وہ سفارت کار تھا اس لیے اسے واپس بھیج دیا گیا، بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ کوئی نئی کہانی نہیں بلکہ پرانے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کی تحریک کوئی معمولی عمل نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے لاکھوں لوگوں کی قربانیاں اور مسلسل جدوجہد شامل تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک الگ ریاست کا واضح تصور پیش کیا تھا، جس نے بعد میں تحریکِ پاکستان کو فکری بنیاد فراہم کی۔
جنرل ( ر)عامر ریاض کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مختلف ادوار میں چیلنجز کا سامنا کیا مگر ہمیشہ مضبوطی کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو کئی اہم مواقع پر تاریخی کامیابیاں حاصل ہوئیں، جنہوں نے ملکی دفاع اور خودمختاری کو مزید مستحکم بنایا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی سیاست پر انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا اثر و رسوخ وہاں کے سیاسی نظام پر غالب ہے، جس کے اثرات خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی پڑتے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ آج کا پاکستان ایک مضبوط، خودمختار اور باوقار ریاست ہے جو اپنے قومی مفادات کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر تیار ہے، اور یہی قوت اسے عالمی برادری میں نمایاں مقام دلاتی ہے۔