امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران ایک غیر معمولی دعویٰ سامنے آنے پر عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے س میں ایران کی جانب سے مبینہ طور پر خودکش ڈولفنز تیار کرنے کی بات کی جا رہی ہے تاہم اس حوالے سے کوئی واضح تصدیق سامنے نہیں آئی۔
واشنگٹن میں پینٹاگون کی ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران اس موضوع نے اس وقت توجہ حاصل کی جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین سے ایران کے ممکنہ غیر روایتی ہتھیاروں کے بارے میں سوال کیا گیا۔ سوال میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ کیا ایران نے ڈولفنز کو تربیت دے کر امریکی جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔
اس غیر متوقع سوال پر جنرل ڈین کین نے حیرت کا اظہار کیا اور طنزیہ انداز میں اسے فلمی تصور سے تشبیہ دی۔ بعد ازاں امریکی وزیر دفاع نے محتاط جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے کہ اس نوعیت کے پروگرام کہیں موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے پاس ایسی صلاحیت ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب بعض عالمی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران ممکنہ طور پر ایسے غیر روایتی ہتھیاروں پر غور کر رہا ہے جو پہلے کبھی استعمال نہیں ہوئے۔ ان دعوؤں میں آبدوزوں، بارودی سرنگوں اور سمندری جانوروں کے ذریعے حملوں جیسے امکانات کا ذکر کیا گیا۔
دوسری جانب بعض ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان خبروں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ دعوے حقیقت سے دور ہیں۔ تاحال ایرانی فوج یا حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔