امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی گز رگا ہ، کسی ایک ملک کے کنٹرول میں نہیں دیا جا سکتا، ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک عالمی گزرگاہ ہے اور اس پر کسی بھی ملک کی اجارہ داری قابل قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اس اہم بحری راستے میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے اضافی تعیناتیاں بھی کی جا رہی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی افواج نے ایران کی سات تیز رفتار کشتیوں کو تباہ کیا جبکہ جاری تصادم کے نتیجے میں دس عام ملاح بھی ہلاک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فورسز کو خطرہ بننے والے ڈرونز اور کشتیوں کو نشانہ بنانے کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ خطے میں بحری سلامتی کو برقرار رکھا جا سکے۔
مارکو روبیو نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں غیر قانونی اور خطرناک سرگرمیوں میں ملوث ہے، جو عالمی تجارت کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے مذاکرات کی طرف آنا چاہیے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے جاری اقدامات کا مقصد کسی ملک پر حملہ کرنا نہیں بلکہ لوگوں کی جانوں کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ “پروجیکٹ فریڈم” جیسے اقدامات اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں جن کا مقصد خطے میں استحکام لانا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اقتصادی دباؤ کے باعث ایران کو روزانہ بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایرانی عوام کو بہتر مستقبل کے مواقع میسر آئیں۔ مختلف سطحوں پر مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں تاہم خطے میں امن کے لیے ایران کا سنجیدہ کردار ادا کرنا ضروری ہے۔