بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی نابینا پیش گو خاتون بابا وانگا سے منسوب دعوے ایک بار پھر عالمی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
ان سے منسوب مختلف پیش گوئیوں میں کہا جاتا ہے کہ 2026 میں مشرقی خطے سے ایک بڑا تصادم شروع ہو سکتا ہے جس میں چین، روس، ایران اور امریکا جیسے بڑے ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔
2026 میں بڑے عالمی تصادم کی پیش گوئی
میڈیارپورٹس کے مطابق بابا وانگا نے اپنی پیش گوئیوں میں کہا تھا کہ آئندہ برس ایک بڑا علاقائی تنازع جنم لے سکتا ہے جو شدت اختیار کرتے ہوئے عالمی جنگ کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے، ان قیاس آرائیوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس کشیدگی سے مغربی دنیا کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انسانی بقا کے بارے میں متضاد دعوے
ان پیش گوئیوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممکنہ عالمی جنگ انسانیت کے مکمل خاتمے کا باعث نہیں بنے گی دیگر دعوؤں میں یہ بھی شامل ہے کہ انسانی زوال کا آغاز 2025 میں ہو چکا ہوگا جبکہ دنیا کے خاتمے کا تصور 5079 کے آس پاس بیان کیا گیا ہے۔
ماضی کی پیش گوئیاں اور دعوے
بابا وانگا سے منسوب پرانی پیش گوئیوں میں شدید قدرتی آفات، یورپ میں جنگوں اور عالمی معاشی بحرانوں کا ذکر بھی کیا جاتا رہا ہے، جن پر مختلف ادوار میں بحث اور تجزیہ ہوتا رہا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی کوئی سائنسی یا مستند تصدیق موجود نہیں۔
غیر ملکی مخلوقات اور عالمی خدشات
ان سے منسوب بعض غیر معمولی دعوؤں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقبل میں انسان غیر زمینی مخلوقات سے رابطے میں آ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر خوف یا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
نوسترادامس کی پیش گوئیوں کا حوالہ
اس کے ساتھ ساتھ فرانسیسی نجومی نوسترادامس سے منسوب مبہم تحریریں بھی زیرِ بحث ہیں، جن میں رواں برس کسی اہم سیاسی شخصیت کے قتل یا بغاوت اور ممکنہ طور پر طویل جنگ کے خدشات کا ذکر کیا جاتا ہے۔
ماہرین کا مؤقف
ماہرین کے مطابق بابا وانگا یا نوسترادامس سے منسوب زیادہ تر پیش گوئیاں مبہم، غیر سائنسی اور مختلف ادوار میں مختلف انداز میں تشریح کی جاتی رہی ہیں، اس لیے انہیں یقینی حقائق کے طور پر نہیں لیا جا سکتا اس کے باوجود عالمی سطح پر جاری سیاسی کشیدگی ان قیاس آرائیوں کو دوبارہ موضوع بحث بنا دیتی ہے۔