آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے حمایت نہ ملنے پر پروپیگنڈہ شروع کردیا ہے اور اب پرانی تصاویر کا سہارا لیا جارہاہے، پرانی تصاویر کو سوشل میڈیا پر شیئر کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے ،سوشل میڈیا پر ایسی پرانی تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں جنہیں موجودہ حالات سے جوڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ چند سیاسی شخصیات سے وابستہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی واضح اور قابل تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا سوشل میڈیا پر زیر گردش تصاویر پرانی ہیں اور ان کا حالیہ واقعات سے کوئی تعلق کالعدم انتشاری کمیٹی عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہے۔
گزشتہ روز آزاد کشمیر کی انتظامیہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بھی عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ صرف مستند ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں سے محتاط رہیں۔
آزاد کشمیر میں حالات معمول کے مطابق ہیں ،سڑکیں کھلی اور اشیاکی ترسیل جاری ہے جبکہ ٹریفک بھی رواں دواں ہے ، ریاست بھر میں قانون کی عملداری ہے ،کالعدم انتشاری کمیٹی کے شرپسند عناصر عوام کی طرف سے مسترد کیے جانے کے بعد اب اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے تاہم عوام ان کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہوچکے ہیں ۔
موجودہ دور میں کسی بھی تصویر یا دعوے کو درست تسلیم کرنے سے قبل اس کی حقیقت جانچنا ضروری ہے تاکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور عوام میں بے چینی پیدا نہ ہو۔