مئی 2025 کی جنگ کے فاتح اب دنیا میں امن کے ضامن، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتکاری کاعالمی ڈنکا بج گیا، اسپینش جریدے کی زبردست ستائش
Home - آزاد سیاست - مئی 2025 کی جنگ کے فاتح اب دنیا میں امن کے ضامن، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتکاری کاعالمی ڈنکا بج گیا، اسپینش جریدے کی زبردست ستائش
پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں اور کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کا جادو پوری دنیا کے سر چڑھ کر بولنے لگا ہے۔
اسپین کے معتبر ترین بین الاقوامی جریدے ’ایل پائس‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی تباہی سے بچانے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار انتہائی کلیدی اور فیصلہ کن ہے۔
امریکی صدر کی غیر معمولی میزبانی اور اعتراف
جریدے کے مطابق تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی صدر نے ایک ایسی غیر ملکی شخصیت کی بطور سربراہِ مملکت میزبانی کی ہے جو باقاعدہ سربراہِ مملکت نہیں تھے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شخصیت سے متاثر ہو کر انہیں ایک ’غیر معمولی، بہادر اور عظیم جنگ جو‘ قرار دیا ہے۔ جریدے کا دعویٰ ہے کہ فیلڈ مارشل ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ بیک وقت مؤثر پیغام رسانی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مئی 2025 کی جنگ اور فاتحانہ کردار
‘ایل پائس’ نے مئی 2025 میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس معرکے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایک نڈر اور فاتح فوجی رہنما کے طور پر ابھرے۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت نے نہ صرف وطن کا دفاع یقینی بنایا بلکہ عالمی سطح پر ان کے عسکری قد کاٹھ میں بے پناہ اضافہ کیا، جس کی بدولت آج وہ پیچیدہ علاقائی و بین الاقوامی معاملات میں ایک ناگزیر ثالث بن چکے ہیں۔
ملٹری ڈپلومیسی کا عروج
ماضی میں پاکستان کی عسکری قیادت نے کئی بار عالمی تنازعات کے حل میں کردار ادا کیا ہے، لیکن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دور میں ’ملٹری ڈپلومیسی‘ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔
مئی 2025 کے پاک بھارت ٹکراؤ کے بعد، جس میں پاکستان نے دشمن کو عبرت ناک شکست دی، عالمی طاقتوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کی عسکری قیادت ہی خطے میں امن کی ضمانت دے سکتی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سیز فائر اور اب مستقل معاہدے کی جانب پیش رفت اسی سفارتی اثر و رسوخ کا نتیجہ ہے۔
فیلڈ مارشل کا کردار اور عالمی اثرات
واضح رہے کہ امریکا اور ایران جیسی متضاد قوتوں کا ایک ہی شخصیت پر بھروسہ کرنا فیلڈ مارشل کی غیر جانبدارانہ اور پُر اثر شخصیت کا ثبوت ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فیلڈ مارشل مداخلت نہ کرتے تو مشرقِ وسطیٰ ایک ایسی ہولناک جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا تھا جس کے اثرات عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہوتے۔
کسی بین الاقوامی جریدے کی جانب سے ‘بہادر جنگ جو’ اور ‘امن کا پیامبر’ قرار دیا جانا عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی وقار میں اضافے کا باعث ہے۔
فیلڈ مارشل کی جانب سے جغرافیائی و سیاسی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی صلاحیت نے انہیں عالمی عسکری قیادت میں ممتاز کر دیا ہے۔