پنجاب بھر میں بارشوں کے متوقع سیزن کے پیش نظر محکمہ تعلیم نے طلبہ اور تدریسی عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔
صوبے کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں پری مون سون کے حفاظتی اقدامات مکمل کرنے کے لیے انتہائی سخت اور ہنگامی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ اس نئے حکم نامے کا مقصد بارشوں کے دوران تعلیمی اداروں کو کسی بھی بڑے حادثے یا نقصان سے محفوظ رکھنا ہے۔
سربراہان اور درجہ چہارم کے ملازمین کی حاضری لازمی قرار
محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ مراسلے کے مطابق، تمام تعلیمی اداروں کے سربراہان (پرنسپلز اور ہیڈ ماسٹرز) اور درجہ چہارم کے ملازمین (چوکیدار اور مالی وغیرہ) کو اسکول کے دفتری اوقات کار کے دوران ہر صورت حاضر رہنے کا پابند کیا گیا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی اسکول کا عملہ غیر حاضر پایا گیا تو اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، کیونکہ ان ملازمین کی موجودگی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
چھتوں کی صفائی اور خستہ حال عمارتوں کا فوری معائنہ
جاری کردہ احکامات کے تحت، اسکولوں کے سربراہان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ بارشوں سے قبل ہی اسکول کی چھتوں کی مکمل صفائی اور نکاسی آب کے انتظامات کا خود تفصیلی جائزہ لیں۔ اس کے ساتھ ہی اسکولوں کی تمام خستہ حال، پرانی اور خطرناک عمارتوں یا کلاس رومز کا فوری معائنہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
کسی بھی ہنگامی صورتحال، شارٹ سرکٹ کے خطرات کے سدباب اور عمومی حفاظت کے انتظامات کو ہر لحاظ سے مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق اگر کسی بھی اسکول میں ان حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد نہ کیا گیا اور کوئی حادثہ پیش آیا، تو اس کا تمام تر ذمہ دار اسکول کا سربراہ ہوگا اور اس کے خلاف فوری تادیبی و قانونی ایکشن لیا جائے گا۔
مون سون کے دوران پنجاب کے اسکولوں کی صورتحال اور ماضی کے حادثات
پنجاب میں ہر سال جولائی سے ستمبر کے دوران ہونے والی مون سون کی شدید بارشیں جہاں گرمی کا زور توڑتی ہیں، وہاں اسکولوں، بالخصوص دیہی اور پسماندہ علاقوں کے تعلیمی اداروں کے لیے شدید خطرات لے کر آتی ہیں۔
ماضی میں کئی ایسے افسوسناک واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں اسکولوں کی بوسیدہ چھتیں یا دیواریں گرنے سے معصوم طلبہ زخمی یا جاں بحق ہوئے۔
اس کے علاوہ، اسکولوں کے میدانوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہونا، پینے کے پانی میں سیوریج کا پانی ملنا اور بجلی کے کھمبوں یا دیواروں میں کرنٹ آ جانا جیسے سنگین مسائل عام ہو جاتے ہیں۔ انھی خطرات سے پہلے سے نمٹنے کے لیے محکمہ تعلیم اب ’پری مون سون‘ (بارشوں سے قبل) کی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔
ذمہ داری کا تعین
اسکول سربراہان کو براہ راست جوابدہ بنانا ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے پہلے حادثات کی صورت میں ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی جاتی تھی، لیکن اب تحریری احکامات کے بعد ہیڈ ماسٹرز اسکول کی صفائی اور بجلی کے تاروں کی درستگی کو سنجیدگی سے لیں گے۔
درجہ چہارم کے ملازمین کا کلیدی کردار
ایسے مہمات میں چوکیداروں اور خاکروبوں کی حاضری سب سے اہم ہوتی ہے، کیونکہ چھتوں کے پرنالے صاف کرنا اور پانی کی نکاسی کا کام انھی کے ذمے ہوتا ہے۔ گرمیوں کی چھٹیوں یا اسکول کے اوقات میں ان کی حاضری کو یقینی بنانا ایک اچھا فیصلہ ہے۔
خستہ حال عمارتوں کا بڑا چیلنج
پنجاب میں ہزاروں ایسے اسکول ہیں جن کی عمارتیں دہائیوں پرانی ہیں اور انہیں پہلے ہی ‘خطرناک’ قرار دیا جا چکا ہے۔ محض معائنہ کرنے سے ان عمارتوں کا خطرہ ٹل نہیں سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسکول سربراہان کی رپورٹ پر محکمہ ایسے کمروں کو فوری طور پر سیل کرے اور فنڈز جاری کر کے ان کی مرمت کروائے۔