صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے نجی اسکولوں میں سمر کیمپ کے مروجہ قواعد وضوابط (ایس او پیز) کی خلاف ورزی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سمر کیمپ سے متعلق حکومتی احکامات پر ہر صورت مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
نجی اسکولوں کی فعال نگرانی کا حکم
انہوں نے محکمہ تعلیم کے متعلقہ حکام کو ہنگامی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ نجی اسکولوں کی فعال نگرانی کریں اور حکومتی احکامات ہوا میں اڑانے والے اداروں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔
وزیر تعلیم پنجاب نے سمر کیمپ کے لیے باقاعدہ اوقات کار اور شرائط کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں کو سمر کیمپ صرف پیر تا جمعرات، صبح 7 بجے سے لے کر صبح 10 بجے تک ہی جاری رکھنے کی اجازت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ اجازت صرف 1 ماہ کے قلیل عرصے کے لیے دی گئی ہے اور مقررہ ایام و اوقات سے ذرا برابر بھی تجاوز کرنا سخت ممنوع ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
بچوں کو سمر کیمپ کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا
رانا سکندر حیات نے نجی اسکول انتظامیہ کو کڑے الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ والدین کی تحریری رضامندی کے بغیر کسی بھی بچے کو سمر کیمپ میں آنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
اسکول مالکان بچوں کو سمر کیمپ میں شرکت کے لیے کسی بھی قسم کی زبردستی کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ صوبائی وزیر نے عوام اور خصوصاً والدین سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی بھی اسکول ان قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرے، تو والدین حکومتی شکایت سیل سے فوری رابطہ قائم کریں تاکہ متعلقہ اسکول کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جا سکے۔
پنجاب بھر میں مئی اور جون کے مہینوں کے دوران گرمی کی لہر اور درجہ حرارت میں شدید اضافے کے باعث حکومت کی جانب سے اسکولوں میں جلد گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان کیا جاتا رہا ہے۔
تاہم حالیہ برسوں میں یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ بہت سے بڑے نجی اسکول چھٹیوں کے باوجود ’سمر کیمپ‘ کے نام پر اسکول کھلے رکھتے ہیں تاکہ اضافی فیسیں یا چارجز وصول کیے جا سکیں۔
شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں بچوں کو دوپہر کے وقت اسکولوں میں روکنا ان کی صحت، خصوصاً ہیٹ اسٹروک اور ڈی ہائیڈریشن (پانی کی کمی) کے حوالے سے انتہائی خطرناک ثابت ہوتا رہا ہے۔
والدین کی جانب سے مسلسل شکایات کے بعد محکمہ تعلیم پنجاب نے سمر کیمپوں کو مکمل بند کرنے کے بجائے ان کے لیے سخت ایس او پیز تیار کیے ہیں تاکہ بچوں کی پڑھائی کا حرج بھی نہ ہو اور ان کی صحت بھی داؤ پر نہ لگے۔
وزیر تعلیم پنجاب کا یہ بیان اور اقدامات صوبے کے تعلیمی نظام اور نجی اسکولوں کے طریقہ کار کے حوالے سے اہم پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں
بچوں کی صحت اور تحفظ کو ترجیح
صبح 7 سے 10 بجے تک کا وقت منتخب کرنا ایک دانشمندانہ معاشی اور طبی فیصلہ ہے، کیونکہ 10 بجے کے بعد دھوپ کی شدت اور گرمی کا دباؤ تیزی سے بڑھتا ہے۔ حکومت نے بچوں کی صحت کو تجارتی مفادات پر ترجیح دی ہے۔
صرف 4 دن کی اجازت اور نگرانی کا چیلنج
پیر سے جمعرات (ہفتے میں 4 دن) اور وہ بھی صرف 1 ماہ کے لیے کیمپ لگانے کی اجازت دینا نجی اسکولوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم، پنجاب جیسے بڑے صوبے میں جہاں ہزاروں نجی اسکول گلی محلوں میں قائم ہیں، وہاں محکمہ تعلیم کے پاس اتنی افرادی قوت موجود نہیں جو ہر اسکول کی فعال نگرانی کر سکے۔ اس لیے حکومت کا والدین کے شکایت سیل پر انحصار کرنا ایک اچھا انتظامی قدم ہے۔
والدین کے اختیارات میں اضافہ
والدین کو براہِ راست شکایت سیل تک رسائی دینا اور اسکولوں کے خلاف کارروائی کا اختیار دینا عوامی سطح پر حکومت پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔