ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیے کی خواہش ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کسی صورت پورے خطے میں نہ پھیلے، کیونکہ اس کے منفی اثرات دیگر ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
ترک میڈیا کے مطابق استنبول میں عراق کی کرد علاقائی حکومت کے رہنما سے ملاقات کے دوران ترک صدر نے خطے کی مجموعی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا،انہوں نے کہا کہ عراق میں ہونے والے حملے اور جاری تنازع خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے۔
صدر اردوان نے اس بات پر زور دیا کہ عراق میں استحکام پورے خطے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق عراق میں مرکزی حکومت کی جلد تشکیل ملک کے اتحاد اور قومی یکجہتی کو مضبوط کرے گی۔
اس سے قبل استنبول میں منعقدہ دفاعی نمائش سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ ترکیے نے دفاع، ہوا بازی اور خلائی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے اور اب یہ دنیا کے ابھرتے ہوئے ممالک میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیے کی دفاعی مصنوعات کی طلب نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے پیچھے کئی دہائیوں کی محنت، محب وطن افراد کی لگن، عوام کی حمایت اور ریاستی عزم شامل ہے۔
صدر اردوان کے مطابق نمائش کے دوران 182 معاہدے طے پائے جن کی مجموعی مالیت 8 ارب ڈالر رہی، جن میں سے 6 ارب ڈالر برآمدی معاہدوں پر مشتمل تھے،انہوں نے بتایا کہ 2026 کے ابتدائی چار ماہ میں ترکیے کی دفاعی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور اس دوران 2.871 ارب ڈالر کی برآمدات ریکارڈ کی گئی ہیں۔