بھارت کی جانب سے پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم کوششیں ایک بار پھر منظر عام پر آتے ہی دم توڑ گئیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا ایک اور منفی ہتھکنڈا بے نقاب ہو گیا ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی ’آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘ (اے آئی) سے تیار کردہ معروف چینی اسکالرز کے نام سے جعلی یوٹیوب اکاؤنٹ بنا کر پاکستان مخالف زہریلا مواد پھیلایا جا رہا تھا۔
چینی اسکالر کے نام کا غلط استعمال
بھارت کی جعل سازی پر مبنی پروپیگنڈا مشینری اس وقت رنگے ہاتھوں پکڑی گئی جب معروف چینی اسکالر پروفیسر جیانگ شوئچن، جنہیں اپنی درست پیش گوئیوں کی وجہ سے موجودہ دور کا ’چینی نوسٹراڈامس‘ بھی کہا جاتا ہے، کے نام سے ایک جعلی ’اے آئی‘ یوٹیوب اکاؤنٹ منظرِعام پر آیا۔
آزاد فیکٹ چیک نے جب اس اکاؤنٹ کا مختلف تکنیکی ذرائع سے جائزہ لیا تو سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے۔ معلوم ہوا کہ یہ اکاؤنٹ مکمل طور پر جعلی ہے، جس پر پروفیسر جیانگ سوئچن کی آواز اور چہرے کا ’اے آئی‘ کے ذریعے کلون بنا کر ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کی جا رہی تھیں جن کا مقصد پاکستان کی معیشت اور افواجِ پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔
تحقیقاتی حقائق اور جعل سازی کا طریقہ واردات
تحقیقات سے یہ ثابت ہوئی کہ پروفیسر جیانگ سوئچن کا اس نام سے کوئی آفیشل یوٹیوب اکاؤنٹ موجود نہیں ہے۔ ان کا اصل اور مستند یوٹیوب چینل ’پریڈکٹو ہسٹری‘ کے نام سے کام کر رہا ہے، جہاں وہ اپنی اصل ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔
بھارتی خفیہ اداروں نے ’پروفیسر جیانگ سوئچن‘ نامی اس جعلی اکاؤنٹ پر ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کیں جن میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا۔ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا ہینڈلز نے فوری طور پر ان جعلی ویڈیوز کو سچ بنا کر پیش کیا تاکہ عالمی رائے عامہ کو پاکستان کے خلاف ہموار کیا جا سکے۔
’ڈس انفو لیب‘ اور فالس فلیگ آپریشنز
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بھارت نے اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے ہوں۔ اس سے قبل یورپی یونین کی ’ڈس انفو لیب‘ بھی بھارت کے 15 سالہ پرانے نیٹ ورک کو بے نقاب کر چکی ہے، جس میں سیکڑوں جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس اور غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی تھیں۔
پہلگام فالس فلیگ آپریشن ہو یا ’ایکس‘ (ٹویٹر)، فیس بک اور یوٹیوب پر ہزاروں جعلی اکاؤنٹس کا جال، بھارت ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتا آیا ہے۔ مودی سرکار کے دور میں بھارتی میڈیا ایک منظم ’پروپیگنڈا فیکٹری‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں حقائق کے بجائے من گھڑت کہانیوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔
ڈیجیٹل دہشت گردی اور بھارت کی ہزیمت
واضح رہے کہ بھارت اب روایتی جنگ کے بجائے ’ہائبرڈ وار فیئر‘ اور ’ڈیجیٹل دہشت گردی‘ پر اتر آیا ہے۔ ’اے آئی‘ ٹیکنالوجی کا منفی استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت میدانِ جنگ اور سفارتی محاذ پر پاکستان سے شکست کھانے کے بعد اب بوکھلاہٹ میں اخلاقی حدود بھی پار کر چکا ہے۔
چینی اسکالر کے نام کا استعمال سی پیک اور پاک چین دوستی میں دراڑ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم عالمی سطح پر فیکٹ چیکنگ کے مضبوط نظام نے بھارت کے ان حربوں کو دُنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔
بھارت کا یہ رویہ خطے میں امن کے قیام کے بجائے جارحانہ اور بے بنیاد اقدامات کا عکاس ہے۔ مودی سرکار اور بھارتی میڈیا کے اس شرمناک پروپیگنڈے کو عالمی سطح پر پذیرائی نہیں مل سکی، کیونکہ سچائی ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتی ہے۔ پاکستان نے ہر محاذ پر بھارت کے ان منفی ہتھکنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور اسے ہر بار ہزیمت اٹھانی پڑی ہے۔
پروفیسر جیانگ شوئچن سے منسوب جعل سازی
آزاد فیکٹ چیک نے جب اس چینل اور ویڈیو کا تفصیلی جائزہ لیا تو کئی اہم حقائق سامنے آئے۔ تحقیقات کے مطابق یہ اکاؤنٹ دراصل جعلی ہے اور اس کا معروف چینی اسکالر پروفیسر جیانگ شوئچن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مزید یہ کہ ویڈیوز میں استعمال ہونے والی آواز، چہرے کے تاثرات اور بیانیہ جدید ’اے آئی‘ ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا گیا تھا، جس کا مقصد مواد کو حقیقی اور مستند ظاہر کرنا تھا۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پروفیسر جیانگ شوئچن کا اصل اور مستند یوٹیوب پلیٹ فارم ایک مختلف نام سے موجود ہے، جہاں ان کے حقیقی لیکچرز، علمی تجزیے اور بین الاقوامی امور پر گفتگو دستیاب ہے۔ جعلی اکاؤنٹ بنانے والوں نے نہ صرف ان کی شناخت استعمال کی بلکہ ان کے انداز گفتگو اور آواز کی نقل کر کے ایک منظم نفسیاتی اور معلوماتی مہم چلانے کی کوشش کی۔
ماضی میں بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت سے منسلک متعدد جعلی میڈیا نیٹ ورکس اور پروپیگنڈا ویب سائٹس کا انکشاف ہو چکا ہے۔ یورپی تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس میں ایسے نیٹ ورکس کی نشاندہی کی گئی تھی جو مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر پاکستان مخالف مواد پھیلاتے رہے۔ ان رپورٹس کے مطابق بعض جعلی ویب سائٹس خود کو آزاد میڈیا ادارے ظاہر کرتی تھیں، تاہم بعد میں ان کے روابط بھارتی نیٹ ورکس سے جوڑے گئے۔