انگلینڈ کا افغانستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے سے دو ٹوک انکار، وجہ کیا بنی؟

انگلینڈ کا افغانستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے سے دو ٹوک انکار، وجہ کیا بنی؟

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے ایک بار پھر اپنے سخت مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ انگلش ٹیم افغانستان کے خلاف مستقبل قریب میں کسی بھی قسم کی باہمی (بائی لیٹرل) کرکٹ سیریز نہیں کھیلے گی۔

انگلش بورڈ نے اس فیصلے کی بنیاد افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم اور کھیلوں پر عائد پابندیوں کو قرار دیا ہے۔

صنفی امتیاز اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی

ای سی بی کے چیئرمین رچرڈ تھامسن نے اس حوالے سے سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں خواتین کو تعلیم، کھیل اور عوامی زندگی کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا واضح طور پر صنفی امتیاز ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ،ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی،افغان کرکٹر پر جرمانہ عائد

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی کھیلوں کی روح، اولمپک چارٹر اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے سراسر خلاف ہیں۔

رچرڈ تھامسن کے مطابق موجودہ حالات میں افغانستان کے ساتھ معمول کے کرکٹ روابط برقرار رکھنا انسانی حقوق کے سنگین مسائل کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا، جو انگلش بورڈ کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔

کرکٹ آسٹریلیا کی پیروی اور آئی سی سی ایونٹس کا استثنیٰ

واضح رہے کہ انگلینڈ سے قبل کرکٹ آسٹریلیا بھی طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد انسانی حقوق کے تحفظ کی خاطر افغانستان کے خلاف متعدد باہمی سیریز منسوخ کر چکا ہے۔

تاہم انگلینڈ نے گزشتہ برس آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 میں افغانستان کے خلاف میچ کھیلا تھا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ آئی سی سی کے عالمی ٹورنامنٹ کے قوانین کے تحت کسی بھی ٹیم کے خلاف کھیلنے سے انکار کرنا بھاری جرمانے اور ٹورنامنٹ سے دستبرداری جیسی پابندیوں کا باعث بن سکتا تھا اسی لیے صرف عالمی ایونٹس تک یہ روابط محدود رکھے گئے ہیں۔

آئی سی سی قوانین اور رکنیت پر سوالیہ نشان

افغانستان میں خواتین کی کرکٹ ٹیم نہ ہونے کے باعث انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے قوانین پر بھی انگلش میڈیا اور ماہرین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

آئی سی سی کے ضوابط کے مطابق کسی بھی ملک کو مکمل رکنیت برقرار رکھنے کے لیے خواتین کرکٹ کا ڈھانچہ قائم کرنا اور اسے فعال رکھنا لازمی ہوتا ہے۔ افغانستان واحد ملک ہے جسے مکمل رکن ہونے کے باوجود خواتین کی ٹیم نہ ہونے پر اب تک استثنیٰ حاصل ہے، جس پر اب دیگر ممالک کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انگلینڈ کا 2026 کا مصروف ہوم سیزن

افغانستان کو نظر انداز کرنے کے ساتھ ساتھ انگلینڈ نے اپنے سال 2026 کے ہوم شیڈول کا بھی باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس شیڈول کے مطابق انگلینڈ کی ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈز پر نیوزی لینڈ، بھارت، پاکستان اور سری لنکا کے خلاف سیریز کھیلے گی۔ ان سیریز میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 فارمیٹس شامل ہوں گے، تاہم اس پورے سیزن میں افغانستان کے لیے کوئی جگہ نہیں رکھی گئی۔

کھیل اور سیاست کا ملاپ یا اخلاقی برتری؟

کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کا یہ فیصلہ جہاں افغان کرکٹرز کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، وہیں یہ طالبان حکومت پر عالمی دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش بھی ہے۔

کرکٹ کی دنیا میں بگ تھری (بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ) کی اہمیت کے پیشِ نظر، اگر انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے بڑے بورڈز افغانستان کا بائیکاٹ جاری رکھتے ہیں تو اس سے افغان کرکٹ بورڈ کو مالی اور فنی طور پر شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

 دوسری طرف، ناقدین کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے افغانستان کے باصلاحیت مرد کھلاڑیوں کا نقصان ہو رہا ہے جنہوں نے حالیہ برسوں میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔

Related Articles