چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ‘معرکہ حق’ محض دو ممالک کے درمیان روایتی جنگ نہ تھی، بلکہ یہ دو متضاد نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں اللہ کے فضل سے ‘حق’ کو فتح نصیب ہوئی۔
جی ایچ کیو راولپنڈی میں معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ مئی 2025 کا یہ معرکہ کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا، بلکہ دشمن کی طویل سازشوں اور غلط اندازوں کا منطقی انجام تھا۔
دشمن کی جارحیت اور قومی وحدت کا جواب
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں دشمن کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا پاکستان نے ہمیشہ دشمن کے غلط اندازوں کو ناکام بنایا ہے اور اس بار بھی دشمن کی جارحیت کا جواب ‘قومی وحدت’ سے دیا گیا۔ دشمن نے اپنی داخلی ناکامیوں کا الزام ہمیشہ پاکستان پر لگایا، لیکن اسے ہر بار شکستِ فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، ان کے لہو نے وطن کے دفاع کو نئی زندگی بخشی۔
صدر، وزیراعظم اور تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان، تمام سیاسی قیادت اور تمام سیاسی جماعتوں کا مشکور ہوں جن کی لازوال سیاسی بصیرت، دور اندیشی اور رہنمائی سے پاکستان کو واضح فتح نصیب ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ قوم کی امنگوں کے عین مطابق دشمن کو آپریشن بنیان مرصوص کی صورت میں جواب دیا گیا جس کا مقصد دشمن کی اس روش کو ہمیشہ کے لیے ناکام کرنا تھا، جس کے تحت وہ اپنی داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ہر فالس فلیگ کا الزام پاکستان پرلگا کر وطن عزیز کے لیے ہیجان پیدا کرتا رہا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ فالس فلیگ آپریشنز اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت ماضی میں بھی الزام تراشی، مبالغہ آرائی، جنگی جنون اور محدود جارحیت کے گمراہ کن تصور کے ذریعے پاکستان پر ناجائز جنگ مسلط کرنے کی ناکام کوشش کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب سے 10 مئی تک دشمن نے پاکستان کی خودمختاری اور قومی عظم و وقار کو آزمانے کی ناکام کوشش کی، جس کا منہ توڑ جواب پوری قومی وحدت اور عسکری قوت سے دیا گیا۔
‘بنیان مرصوص’ اور نظریاتی برتری
فیلڈ مارشل نے معرکہ حق کو ‘بنیان مرصوص’ (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل آج کے دن پاکستان کو جو بے مثال کامیابی ملی، اس نے ثابت کر دیا کہ جب ایمان اور عزم یکجا ہوں تو مادی قوتیں ہیچ ثابت ہوتی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ دشمن کی ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا اور مستقبل میں بھی پاکستان کے دشمنوں کو اسی طرح عبرت ناک شکست سے دوچار کیا جائے گا۔
چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دشمن کو آخری اور سخت ترین وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا دفاع اب کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہو چکا ہے اور آئندہ کسی بھی مہم جوئی کا جواب پہلے سے زیادہ تکلیف دہ اور دور رس ہوگا۔
فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں معرکہ حق کے تمام غازیوں اور شہدا، بالخصوص دشمن کی بربریت کا نشانہ بننے والی نہتی خواتین، بزرگوں اور معصوم بچوں کو پوری قوم کی جانب سے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
پاک فضائیہ نے دشمن کو کامیابی سے نشانہ بنایا
انہوں نے کہا پاکستان کے فتح میزائلوں اور پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے 26 سے زیادہ اہم عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ہندوستان کو اس جنگ میں شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا، جس کی قیمت وہ آنے والے کئی برسوں تک چکاتا رہے گا۔ ملکی خود مختاری اور سرحدی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں، یہ پوری قوم اور قیادت کا متفقہ پیغام ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پہلی بار انکشاف کیا ہے کہ مئی 2025 کی جنگ میں بدترین شکست کے بعد بھارت نے امریکا کی سیاسی قیادت کے ذریعے پاکستان سے جنگ بندی کی بھیک مانگی تھی، جسے پاکستان نے علاقائی امن کے وسیع تر مفاد میں قبول کیا۔
فیلڈ مارشل نے دفاعی وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ روایتی جنگیں اب ماضی کا حصہ بن رہی ہیں، مستقبل کی جنگیں مصنوعی ذہانت، سائبر وارفیئر، ڈرون ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک وارفیئر پر مشتمل ہوں گی۔ اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ’ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز‘ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور اسپیس پروگرام کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق نے پاکستان کی عالمی سفارتی حیثیت کو مضبوط کیا ہے۔ آج پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے، جبکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔
فیلڈ مارشل نے پڑوسی ملک افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو ’فتنہ خوارج‘ اور ’فتنہ بھارت‘ کے دہشت گردوں سے پاک کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روایتی میدان میں شکست کے بعد بھارت اب دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے، لیکن اسے یہاں بھی شکست ہوگی۔
چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کی عالمی سفارتکاری کے نئے اور روشن باب کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آج اپنی مؤثر، ذمہ دارانہ اور غیر جانبدارانہ سفارتکاری کے ذریعے دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے، جس سے پاکستان کا وقار دنیا کے نقشے پر ایک حقیقی ’امن ساز‘ ملک کی حیثیت سے واضح ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت پر اعتماد کا اظہار
فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں خصوصی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کی اعلیٰ قیادت کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان اس وقت اپنی مؤثر اور غیر جانبدارانہ سفارتکاری کے ذریعے عالمی سطح پر انتہائی اہم امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے، جس کا اعتراف عالمی قوتوں کی جانب سے بھی کیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی ثالثی
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان، امریکا اور ایران کی قیادت کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس مشکل کام کے لیے پاکستان پر بھرپور اعتماد کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اس ثالثی نے نہ صرف عالمی قوتوں کو اطمینان دیا بلکہ خطے کو ایک ایسی بڑی تباہی سے بھی بچا لیا جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی تھی۔
دنیا کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف
فیلڈ مارشل نے کہا کہ عالمی برادری آج پاکستان کی ان کوششوں کو سراہ رہی ہے جن کے ذریعے جنگ بندی اور مذاکرات کو فروغ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا ہی نہیں جانتا، بلکہ عالمی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے ایک ذمہ دار اور غیر جانبدار ریاست کی حیثیت سے اپنا لوہا منوانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انہوں نے شہداکی قربانیوں کو سراہتے ہوئے قوم کو یقین دلایا کہ پاکستان آج کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہے۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کے دفاعی عزم اور یکجہتی نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کیا ہے اور یہ کامیابی صرف میدان جنگ میں ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر بھی حاصل ہوئی ہے۔
فیلڈ مارشل نے غازیوں کو بھی سلام پیش کیا، جنہوں نے میدانِ جنگ میں شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ غازی وہ تاریخ رقم کر گئے جس پر آنے والی نسلیں ہمیشہ فخر کریں گی۔ ان کی قربانیاں نہ صرف پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کا باعث بنیں بلکہ قومی عزم اور دفاعی طاقت کا عملی مظاہرہ بھی ثابت ہوئیں۔
پاکستان کا دفاع آج کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہے۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور مؤثر دفاعی حکمتِ عملی پر کاربند ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی دفاعی پالیسی جارحیت نہیں بلکہ امن کے تحفظ پر مبنی ہے، تاہم امن کے قیام کے لیے ہر وقت تیار رہنا ناگزیر ہے۔
آج ہمارے دوستوں میں اضافہ ہوا
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے جو باہمی دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ فیلڈ مارشل نے اس معاہدے کو پاکستان کی دفاعی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں اہم قرار دیا۔
پاکستان نے امریکا اور ایران کی قیادت سمیت مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں میں مثبت کردار ادا کیا ہے، جس نے پاکستان کو ایک مؤثر امن ساز ریاست کے طور پر عالمی سطح پر نمایاں کیا ہے۔ آج ماضی کی نسبت آج ہمارے دوستوں کی تعداد زیادہ ہے۔ پاکستان نے اپنے سفارتی کوششوں کے ذریعے لبنان میں جنگ بندی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا اور فلسطین میں امن کے لیے بھی بھرپور حمایت جاری رکھی ہے۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے مسئلے کو عالمی فورمز پر اجاگر کرتا رہے گا اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں کسی بھی قسم کی آبادیاتی یا سماجی تبدیلی کو قبول نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان اس مسئلے کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق چاہتا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ خطاب پاکستان کی دفاعی طاقت اور عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا عکاس ہے، جس نے ملک کو ایک مضبوط اور پرعزم قوم کے طور پر پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم امید کا استعارہ ہے اور اس کی مسلح افواج منظم اور ہر لمحہ تیار ہیں، پاکستانی قوم ہماری طاقت ہے اور ہم قوم کی قوت ہیں، پاکستان کا مستقل ان شا اللہ بہت روشن اور تابناک ہے،جب حق اور باطل مقابل ہوں تو فتح ہمیشہ حق کا مقدر بنتی ہے،پاکستان کل بھی ناقابلِ تسخیر تھا اوران شا اللہ آنے والے وقتوں تک ناقابلِ تسخیر رہے گا۔
فیلڈ مارشل نے اپنی تقریر کے دوران لہو گرما دینے والے یہ اشعار پڑھتے ہوئے دشمن کو پیغام دیا کہ اب اگر کوئی جارحیت کی تو جواب پہلے سے زیادہ مؤثر اور تکلیف دہ ہو گا،