وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے معروف نشریاتی ادارے سنو نیوز کے اشتہارات فوری طور پر بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے، یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ادارے سے اچانک بڑی تعداد میں ملازمین کی برطرفی کی خبریں منظر عام پر آئیں، جس کے بعد صورتحال نے نیا رخ اختیار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں سنو نیوز کی انتظامیہ کی جانب سے تقریباً 170 ملازمین کو نوکری سے فارغ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس پر ملازمین اور صحافتی حلقوں میں شدید تشویش پائی گئی۔
متاثرہ ملازمین نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بغیر مناسب نوٹس اور شفاف طریقہ کار کے ملازمت سے نکالا گیا، جس سے ان کے گھروں کے چولہے بجھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
اس صورتحال کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات نے فوری نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک ملازمین کے مسائل حل نہیں ہوتے، اس وقت تک مذکورہ ادارے کو حکومتی اشتہارات جاری نہیں کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت مزدوروں اور میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے اور کسی بھی ادارے کو ملازمین کے ساتھ ناانصافی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ حکومت اس معاملے میں ثالثی کے لیے بھی تیار ہے اور اگر ضرورت پڑی تو فریقین کے درمیان بات چیت کروا کر مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضروری ہے کہ ادارے کی انتظامیہ ملازمین کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مالی اور پیشہ ورانہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے تاکہ بحران مزید نہ بڑھے۔