خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی درجنوں گاڑیوں پر مشتمل بڑے پروٹوکول کے ساتھ بنوں پہنچ گئے، جہاں ان کے قافلے میں تقریباً 120 گاڑیاں شامل تھیں سہیل آفریدی اور ان کی جماعت وی پی آئی کلچر کے خاتمے کیلئے نعرے لگاتے رہیں تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔
کےپی کے میں وی آئی پی کلچر اور شاہ خرچیوں کے خلاف تبدیلی کا نعرہ لگایا گیا تھا آج اسی کی آڑ میں عوام کے خون پسینے کی کمائی کو اپنی نمود و نمائش پر اڑایا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے اس دورے میں سیکیورٹی گاڑیوں، انتظامی عملے اور دیگر سرکاری اہلکاروں پر مشتمل طویل قافلہ شامل تھا جو مختلف مقامات سے گزرتا ہوا بنوں پہنچا، اس موقع پر شہر کے اہم راستوں پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
ایک طرف پی ٹی آئی قیادت بار بار وی آئی پی کلچر کے خاتمے، سادگی اور عوامی طرز حکمرانی کے دعوے کرتی ہے، لیکن دوسری طرف ایسے بڑے اور شاہانہ پروٹوکول کے ساتھ سفر ان دعوؤں پر سوالیہ نشان بن رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، جہاں صارفین نے اسے عوامی وسائل کے غیر ضروری استعمال سے تعبیر کیا ہے ۔
اگر سیاسی قیادت سادگی اور کفایت شعاری کو اپنی پالیسی کا حصہ قرار دیتی ہے تو عملی اقدامات بھی اسی سوچ کی عکاسی کرنے چاہئیں،نہ کہ درجنوں گاڑیاں لیکر سیر سپاٹے کئے جائیں۔