ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں لیکس کے مطابق سام سنگ ایک ہولوگرافک ڈسپلے سسٹم پر کام کر رہا ہے جو مستقبل کے اسمارٹ فونز کو بالکل نیا تجربہ دے سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معلومات لیکرشروڈنگر نے شیئر کی ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ سام سنگ اندرونی طور پر ایک پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے جس کا کوڈ نیم ایم ایچ 1(MH1 )یا ایچ1(H1) رکھا گیا ہے۔
لیک میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی ممکنہ طور پر مستقبل کے ’اسپیشل آئی فون‘ کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ایپل اس ٹیکنالوجی کا ممکنہ خریدار بن سکتا ہے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق یہ نیا ڈسپلے سسٹم نینو اسٹرکچرڈ ہولوگرافک لیئر، آئی ٹریکنگ اور بیم اسٹیئرنگ ٹیکنالوجی کو ملا کر تیار کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد صارفین کو بغیر چشمے کے 3ڈی(3D) تجربہ فراہم کرنا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے صارف جب فون کو ہلکا سا حرکت دے گا تو اسکرین پر موجود ڈیجیٹل اشیاء مختلف زاویوں سے دیکھی جا سکیں گی۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ سسٹم روایتی 3ڈی(3D) ڈسپلے کے برعکس عام2ڈی( 2D) موڈ میں مکمل ریزولوشن کو برقرار رکھے گا، جو پہلے آنے والی3ڈی(3D) ٹیکنالوجیز کا بڑا مسئلہ رہا ہے۔لیک میں مزید بتایا گیا ہے کہ سام سنگ کا یہ بیم اسٹیئرنگ سسٹم روشنی کو زیادہ درست انداز میں صارف کی آنکھوں کی طرف فوکس کرے گا، جس سے ویوئنگ اسٹیبلٹی بہتر ہو سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ ابھی ابتدائی ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کے مرحلے میں ہے اور اسے مارکیٹ تک پہنچنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، یا ممکن ہے یہ کبھی مکمل تجارتی شکل اختیار نہ کر سکے۔اس سے قبل بھی اسمارٹ فون انڈسٹری میں بغیر چشمے کے 3ڈی(3D) ڈسپلے پر تجربات کیے جا چکے ہیں، جیسے نینٹینڈو 3ڈی ایس(3DS)، لیکن ان میں ویوئنگ اینگل اور امیج اسٹیبلٹی کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں۔
اگر سام سنگ کا یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو مستقبل میں اسمارٹ فونز میں فلوٹنگ یوزر انٹرفیس، اسپیشل گیمنگ اور جدید مکسڈ ریئلٹی تجربات دیکھنے کو مل سکتے ہیں، جو ڈیجیٹل دنیا کو ایک نئے انداز میں پیش کریں گے۔