چین کی کمپنی ڈانگ جن گروپ نے پاکستان میں بیٹری انڈسٹری کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے فیصل آباد کے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں ڈرائی بیٹری مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی بیٹری کی طلب کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
کمپنی کی تفصیلات کے مطابق یہ فیکٹری اسپیشل اکنامک زون کے تحت قائم کی جائے گی اور اس منصوبے پر مجموعی طور پر 15 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سرمایہ کاری کا معاہدہ پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے ساتھ کیا گیا ہے۔
پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ شارقی علی ٹیپو نے بتایا کہ کمپنی نے پاکستان میں بیٹریوں کی بڑھتی ہوئی طلب اور مارکیٹ کے وسیع امکانات کو دیکھتے ہوئے یہاں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ کرے گا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس فیکٹری سے الیکٹرانکس، آٹوموٹیو پارٹس، پیکجنگ، کیمیکل اور انجینئرنگ سمیت متعدد ذیلی صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا جبکہ فیصل آباد اور قریبی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کو چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک کے تحت ایک اہم اور جدید صنعتی زون قرار دیا جاتا ہے، جہاں سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی سہولیات اور مراعات فراہم کی جا رہی ہیں۔
حکومتی پالیسی کے تحت اس منصوبے کو 10 سالہ انکم ٹیکس چھوٹ، مشینری اور پلانٹ کی درآمد پر ایک بار کسٹمز ڈیوٹی سے استثنیٰ سمیت دیگر مراعات بھی حاصل ہوں گی۔ماہرین صنعت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقامی سطح پر بیٹری مینوفیکچرنگ کا آغاز توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ سابق چیئرمین انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ الماس حیدر نے کہا کہ ملک میں لیتھیم آئن بیٹریز کی مقامی پیداوار سے درآمدات پر انحصار کم ہوگا اور توانائی کے شعبے میں استحکام آئے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی نئی بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی 2026 تا 31 اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کو فروغ دے گی۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں بیٹری انڈسٹری کی ترقی نہ صرف توانائی کی ضروریات کو پورا کرے گی بلکہ الیکٹرک گاڑیوں اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گی، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔