ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کے رے بین اسمارٹ گلاسز ایک نئے تنازع کی زد میں آ گئے ہیں، جس کے بعد کینیا میں ان ڈیوائسز کے استعمال سے متعلق پرائیویسی خدشات پر باضابطہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیا کے حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ اسمارٹ چشمے لوگوں کی نجی زندگی کو بغیر اجازت ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ ان خدشات نے ڈیجیٹل پرائیویسی اور ویئرایبل ٹیکنالوجی کے استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
میڈیا رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان چشموں کے ذریعے ریکارڈ کی گئی کچھ ویڈیوز اور تصاویر، جن میں نجی لمحات، حساس گفتگو اور مالی معلومات شامل تھیں، کو مصنوعی ذہانت کے نظام کی تربیت اور مواد کی جانچ پڑتال کے لیے کینیا میں موجود اے آئی ماڈریٹرز کے پاس بھیجا گیا۔
یہ انکشاف سامنے آنے کے بعد سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا کس حد تک محفوظ ہے اور کمپنیز اس ڈیٹا کو اپنے اے آئی سسٹمز کی بہتری کے لیے کس انداز میں استعمال کر رہی ہیں۔
تحقیقات کے دوران ایک غیر ملکی شہری کے کیس کا بھی ذکر سامنے آیا ہے جس پر افریقی ممالک میں خواتین کی خفیہ ویڈیوز بنانے اور انہیں آن لائن شیئر کرنے کے الزامات ہیں۔ اس واقعے نے اسمارٹ گلاسز کے ممکنہ غلط استعمال کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ویئرایبل ڈیوائسز جیسے اسمارٹ گلاسز مستقبل میں شہریوں کی نجی زندگی اور آزادی کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں، کیونکہ یہ آلات بظاہر عام نظر آتے ہیں لیکن ان کے ذریعے ریکارڈنگ کا عمل محسوس کیے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے۔
ابتدا میں ان چشموں کو ایک انقلابی اور جدید ٹیکنالوجی کے طور پر پیش کیا گیا تھا، تاہم اب یہ عالمی سطح پر پرائیویسی کے حوالے سے ایک بڑے تنازع میں تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے واضح قوانین اور سخت نگرانی کا نظام نہ بنایا گیا تو خفیہ نگرانی، ڈیٹا کے غلط استعمال اور ذاتی معلومات کے لیک ہونے جیسے خطرات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔