قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جہاں اجلاس ختم ہونے کے بعد پارٹی کے چند ارکان آپس میں الجھ پڑے اور معاملہ ہاتھا پائی تک جا پہنچا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں پیش آنے والے واقعے کے مطابق اقبال آفریدی اور جنید اکبر کے درمیان کسی معاملے پر تلخ کلامی شروع ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر گئی۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو سخت جملے کہے اور مشتعل ماحول میں گریبان پکڑنے تک نوبت آ گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب پی ٹی آئی کے ایک اور رکن اسمبلی اور اقبال آفریدی کے درمیان بھی جھگڑا شروع ہوگیا۔ ارکان اسمبلی کے درمیان دھکم پیل اور سخت جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا جبکہ بعض ارکان نے فوری مداخلت کرکے صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جنید اکبر کو دیگر اراکین ایک جانب لے گئے جبکہ اقبال آفریدی کو بھی ساتھی ارکان نے الگ کر کے معاملہ ٹھنڈا کرایا، بصورت دیگر صورتحال مزید خراب ہوسکتی تھی۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اقبال آفریدی اپنے بیٹے کی بیرون ملک پناہ لیے جانے کے معاملے پر پارٹی کی طرف سے ان کا دفاع نہ کیے جانے اور پارلیمنٹ میں موثر کردار ادا نہ کیے جانے پرنالاں ہیں اور اجلاس میں وہ خود اور دیگر اراکین کی طرف سے اس معاملہ پر بات کرنے کے خواہش مند تھے لیکن اجلاس ملتوی کر دیا گیا
پارلیمنٹ ہاؤس میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سیاسی حلقوں میں تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔پی ٹی آئی کے بعض ارکان نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ اندرونی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ پارلیمانی ماحول مزید متاثر نہ ہو۔