قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور پارٹی رہنماؤں سے تلخ کلامی کے بعد اقبال آفریدی ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آگئے جہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا نمائندوں کے سخت سوالات نے انہیں مشکل صورتحال سے دوچار کردیا۔
پارلیمنٹ کے اندر جنید اکبر اور دیگر پی ٹی آئی اراکین کے ساتھ جھگڑے کے بعد جب اقبال آفریدی باہر نکلے تو صحافیوں نے انہیں گھیر لیا اور حالیہ سیاسی رویے، پارٹی اختلافات اور ذاتی معاملات پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔
اسی دوران ایک صحافی نے اقبال آفریدی سے سوال کیا کہ وہ گزشتہ کئی دنوں سے خود کو سادگی کا مظہر دکھاتے ہوئے سائیکل پر پارلیمنٹ آنے کی تشہیر کر رہے ہیں لیکن دوسری جانب ان کے بیٹے کے بیرون ملک موجود ہونے اور وہاں سیاسی پناہ کیلئے درخواست دینے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس سوال کے جواب میں اقبال آفریدی نے اپنے بیٹے کے بیرون ملک ہونے اور اسائلم کیلئے درخواست دینے کی تصدیق تو کی تاہم وہ اس حوالے سے کوئی واضح یا تسلی بخش مؤقف پیش نہ کر سکے۔
اقبال آفریدی کو ان دنوں پارٹی کے اندر بھی شدید تنقید کا سامنا ہے اور بعض رہنما ان پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی اجلاسوں میں بھی ان کے بیٹے کے معاملے پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں جس کے باعث ان کی پوزیشن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
ادھر قومی اسمبلی میں آج پیش آنے والے ہنگامے نے بھی پارٹی کے اندرونی اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق اقبال آفریدی اور جنید اکبر کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جبکہ صورتحال ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ بعد ازاں دیگر اراکین نے بیچ بچاؤ کرا کے معاملہ ٹھنڈا کرایا۔
پارٹی قیادت کیلئے یہ صورتحال تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے کیونکہ ایک طرف اندرونی اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب اہم رہنماؤں کی ذاتی اور سیاسی ساکھ بھی سوالات کی زد میں ہے۔